کوئٹہ (آوازٹائمز) جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین، مرکزی جوائنٹ سیکرٹری مولانا محمود الحسن قاسمی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبد الستار شاہ چشتی اور نائب امیر مولانا عزیز احمد شاہ امروٹی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی بینائی اور صحت کے حوالے سے رپورٹوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ہر قیدی چاہے جس بھی جرم میں قید ہو، بیماری کی حالت میں اس کا علاج ریاست کی ذمہ داری اور بنیادی حق ہے۔ عمران خان کی صحت کے حوالے سے خبریں پورے ملک کے عوام میں تشویش پیدا کر رہی ہیں۔ قیادت نے کہا کہ جمہوریت کے دعویداروں نے اقتدار کے لیے آئینی حدود کی پامالی کی، اور آج غیر آئینی اقدامات کے ذریعے مارشل لا کی بیج بونا جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی اشاروں پر آئین کو پاوں تلے روند رہی ہے، آزادی رائے کو دبایا جا رہا ہے اور پارلیمنٹ ملکی مسائل پر فیصلے کا اختیار کھو چکی ہے۔ غیر آئینی اقدامات کا مقصد صرف حکومت کی بقا ہے اور آئین کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔جمعیت علما اسلام نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ذاتی معالجوں کے ذریعے فوری علاج فراہم کیا جائے اور تمام سیاسی جماعتیں، میڈیا اور عدلیہ آئینی مداخلت کے راستے کو روکیں تاکہ ملک آئینی، سیاسی اور معاشی بحران سے نکل سکے۔ قیادت نے کہا کہ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور کرپشن کی وجہ سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، اور حکومت کو عوامی حقوق اور آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی یقینی بنانی چاہیے






