لسبیلہ+ساکران(خدابخش/نوازعلی فیض) مکران کوسٹل ہائی وے پر عوام کے جان و مال اور مسافروں کے محفوظ سفر کیلئے کوسٹل ہائی وے پولیس کا قیام تو عمل میں لایا گیا مگر عوام کی جان و مال کی حفاظت کیلئے تعینات اہلکاران سہولیات محروم خانہ بدوشوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور،کوسٹل ہائی پولیس زون اورماڑہ کے لواحقین کا آئی جی پولیس بلوچستان سے فوری ٹوٹس لیکر کوسٹل ہائی وے تعینات اہلکاروں کو سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق مکران کوسٹل ہائی وے سی پیک روٹ پر بڑھتے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے 2021 میں کوسٹل ہائی وے پولیس کا قیام عمل میں لایا گیا اور ٹریننگ کے باقاعدہ کوسٹل ہائی وے پر چیک پوسٹیں قائم کے عوام کے جان ومال اور مسافروں کے سیکورٹی کیلئے کام شروع کردیا مگر یہ کوسٹل ہائی وے دوسروں کی حفاظت پر معمور خود تمام تر سہولیات سے محروم ہیں کوسٹل ہائی وے اہلکاروں کو لسبیلہ سے اورماڑہ تک مختلف چیک پوسٹ پر تعینات کرکے لاوارث حالت میں چھوڑ دیا کوسٹل پولیس کے اہلکار ٹینٹوں میں اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے خانہ بدوشوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں مگر انکی سننے والا نہیں ذرائع کے مطابق کوسٹل پر تعینات اہلکاروں کو پانی تک فراہم نہیں کیا جاتا ، ہیڈ کواٹر اورماڑہ میں ہونے کی وجہ سے ملازموں کو کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کوسٹل ہائی وے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے کوسٹل ہائی وے زون ون کا ہیڈکوارٹر اوتھل میں بنانے کا مطالبہ کیا،انھوںنے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، گورنربلوچستان، منتخب نمائندوں سابق وزیر اعلی بلوچستان جام آف لسبیلہ نواب جام کمال خان عالیانی، MNA سردار محمد اسلم بھوتانی،صوبائی وزیر بلدیات سردار محمد صالح بھوتانی اور آئی جی پولیس بلوچستان سے فوری نوٹس لینے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوسٹل ہائی پولیس کے اہلکاروں سے زیادتی بند کرکے انہیں سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ کوسٹل ہائی وے پولیس زون کا ہیڈ کوارٹر اورماڑہ کی بجائے اوتھل میں بنانے کا مطالبہ کیا ہے.






