بجٹ2023-24 میں‌ملازمین کیلئے اہم اعلان کردیاگیا

اسلام آباد(روزنامہ آواز ٹائمز/جہانگیرخان) وفاقی حکومت نے مالی سال2023-24کا بجٹ 9جون کو پیش کیا جائیگا،وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرینگے۔وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں20 فیصد اضافے کاامکان ہے ،حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔تفصیلات کے مطابق مالی سال 2023ـ24 کے بجٹ کا حجم گزشتہ سال کی نسبت5 کھرب روپے زیادہ رکھنے کی تجویز کی گئی ہے،بجٹ کا کنسالیٹیڈ حجم 14ہزار 600ارب روپے،وفاقی حکومت کے خالص محصولات کا تخمینہ 6.5 کھرب روپے اور ایف بی آر کا ٹیکس 24 فیصد اضافہ کے ساتھ 9.2 کھرب روپے جبکہ بجٹ خسارہ 00 78 ارب روپے تک رکھنے کی تجویز کی گئی ہے۔سود کی ادائیگی کے لیے مختص رقم 7.5 کھرب روپے،بجٹ خسارہ کا تخمینہ جی ڈی پی کے تقریباً 7.4 فیصد تک متوقع،بجٹ کے نصف سے زائد رقم سود کی ادائیگی کیلئے مختص ہوگی اور وفاقی حکومت بجٹ کا تقریباً 64 فیصد قرض کی فراہمی اور دفاع پر خرچ کریگی جبکہ وفاقی بنیادی خسارہ سود کی لاگت کی ادائیگی کے بعد جی ڈی پی کا 0.3% ہو سکتا ہے۔بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافے کی تجویز کی گئی ہے جبکہ حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ 9 مئی کو کریگی۔ترقیاتی اخراجات کے لیے وزارت منصوبہ بندی نے 1.2 کھرب روپے کا مطالبہ کردیا ہے،وفاق نے پی ایس ڈی پی 700 ارب روپے رکھنے کی تجویز اور دفاعی بجٹ کے لیے 1.7 کھرب روپے رکھنے کی تجویز جبکہ وزارت دفاع نے 1.92 کھرب روپے کا مطالبہ کردیا ہے۔وفاقی حکومت مالی سال 2022ـ23کے بیشتر معاشی اہداف کے حصول میں ناکام رہی،رواں مالی سال جی ڈی پی کا تخمینہ 0.29 فیصد لگایا گیا،گزشتہ مالی سال جی ڈی پی گروتھ 6.1 ریکارڈ کی گئی تھی۔صنعت کی شرح نمو 2.9 فیصد ،خدمات کی شرح نمو 0.85 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک کی شرح نمو 3.7 فیصد جنگلات کی شرح نمو 3.9 فیصد رہی جبکہ ماہی گیری کی شرح نمو 1.4 فیصد رہی، معدنیات کے شرح منفی 4.4 فیصد رہی، مینوفیکچرنگ کی ترقی منفی 3.9 فیصد رہی، بڑے صنعتی شعبے کی شرح نمو منفی 7.9 فیصد رہی، جبکہ بجلی کی پیدوار میں 6 فیصد اضافہ ہوا، تعمیرات کے شعبے کی ترقہ منفی 5.5 فیصد رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

بجٹ2023-24 میں‌ملازمین کیلئے اہم اعلان کردیاگیا“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں