پاک افغان کشیدگی کے باعث چمن میں 600افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کنٹینرز سرحد پار نہ کر سکے

کوئٹہ،چمن(آواز ٹائمز)پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث پاک افغان سرحد کی بندش کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے نتیجے میں
افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے 600 سے زائد کنٹینرز مختلف علاقوں میں پھنس گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ کنٹینرز کراچی سے افغانستان کے لیے روانہ کیے گئے تھے، تاہم کشیدہ صورتحال کے باعث سرحد بند ہونے سے یہ سامان بلوچستان کے مختلف مقامات پر رک گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق حب، خضدار اور قلات میں تقریبا 175 کنٹینرز، پشین چمن روٹ پر یارو کے مقام پر 70 کنٹینرز، چمن ہالٹ میں 217 کنٹینرز جبکہ این ایل سی چمن یارڈ میں 74 کنٹینرز تاحال موجود ہیں۔ حکام کے مطابق ان میں چائے، چاول اور دیگر اشیائے خوردونوش شامل ہیں، جن کے خراب ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔افغان ٹرانزٹ ٹریڈ حکام کا کہنا ہے کہ معمول کے دنوں میں کراچی سے روزانہ 50 سے 60 کنٹینرز افغانستان روانہ کیے جاتے تھے، تاہم گزشتہ ایک ہفتے سے بارڈر مکمل طور پر بند ہے۔ حکام نے مزید کنٹینرز کی روانگی بھی روک دی ہے تاکہ مزید سامان سرحد پر نہ پھنسے۔تجارتی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل سے نہ صرف ٹرانزٹ ٹریڈ بلکہ قومی معیشت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی ختم کرکے سرحدی تجارت فوری طور پر بحال کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں