بلوچستان میں خشک سالی خطرناک حد تک بڑھ گئی

کوئٹہ(آوازٹائمز)رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں بارشوں کی شدید کمی کے باعث خشک سالی کی صورتحال خطرناک حد تک خراب ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبے کے کم از کم 11 اضلاع میں پانی کی شدید قلت نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے، جبکہ لاکھوں کی آبادی والے شہر کوئٹہ میں بھی تہران جیسی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔مقامی زمیندار ملک یونس شاہوانی نے بتایا کہ زیرِ زمین پانی کی سطح پہلے ہی نیچے تھی جو اب مزید گر چکی ہے، فصلوں کو ضرورت کے مطابق پانی نہیں مل رہا، درختوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں اور درجنوں درخت کاٹنے پڑ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سال پینے کے پانی کا بھی شدید بحران پیدا ہو جائے گا۔رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی نہروں اور ڈیموں میں بھی پانی کی مقدار انتہائی کم ہو چکی ہے۔ کوئٹہ میں 103 دن، تربت میں 101 دن اور پسنی میں 80 دن سے مسلسل بارش نہیں ہوئی۔ کوئٹہ، چاغی، گوادر، کیچ، خاران، مستونگ، نوشکی، پشین، قلعہ عبداللہ، پنجگور اور واشک شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے مغربی اور جنوب مغربی بیشتر علاقوں میں سال بھر سے بارشیں نہیں ہوئیں۔ پری الرٹ ایڈوائزری کے مطابق جیوانی اور کوئٹہ میں 314 دن، پنجگور اور کوئٹہ میں 234 دن، نوکنڈی میں 263 دن اور دالبندین میں 275 دن سے بارش ریکارڈ نہیں کی گئی۔ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر بارشوں سے پہلے اگر پانی کے ذخائر ختم ہو گئے تو نتائج نہایت ہولناک ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نے متاثرہ علاقوں میں پانی کے کم استعمال، عوامی آگاہی، محکمہ صحت اور ویٹرنری موبائل ٹیموں کو فوری طور پر متحرک کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں