گل پلازہ میں جان لیوا آگ، ریسکیو آپریشن تیسرے روز بھی جاری، بیسمنٹ کلیئر کرنے کا عمل شروع

کراچی( آوازٹائمز)کراچی کے مصروف تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے بعد ریسکیو اور سرچ آپریشن منگل کو بھی جاری رہا، جہاں اب تک کم از کم 23 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 60 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ریسکیو حکام کے مطابق آگ ہفتہ کی شب بھڑکی تھی، جس کے نتیجے میں گراؤنڈ پلس تین منزلہ عمارت کے بعض حصے منہدم ہو گئے۔ آٹھ ہزار اسکوائر یارڈ پر محیط اس شاپنگ پلازہ میں تقریباً 1,200 دکانیں قائم تھیں۔ اتوار کو 24 گھنٹے سے زائد کی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا تھا، تاہم پیر کے روز ملبے میں دوبارہ شعلے بھڑک اٹھے، جس کے باعث فائر فائٹنگ کا عمل دوبارہ شروع کرنا پڑا۔جنوبی ضلع کے سینئر پولیس افسر کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے منگل کے روز پلازہ کے بیسمنٹ میں کلیئرنس کا عمل شروع کر دیا ہے، تاہم اب تک پہلی منزل میں داخلہ ممکن نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ رات بھر کسی نئی لاش کی برآمدگی نہیں ہوئی۔پولیس حکام کے مطابق 38 ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے موبائل فون لوکیشن کے مطابق وہ گل پلازہ میں موجود تھے، جبکہ 37 دیگر لاپتہ افراد کی لوکیشن کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ مجموعی طور پر لاپتہ افراد کی تعداد 60 سے تجاوز کر چکی ہے۔ادھر میئر کراچی نے جائے وقوعہ پر موجودگی کے دوران بتایا کہ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور بلدیہ عظمیٰ کے مشترکہ اقدامات سے آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔میئر کراچی نے اعلان کیا کہ جب تک تمام لاپتہ افراد کا سراغ نہیں لگا لیا جاتا اور ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہو جاتا، بلدیہ عظمیٰ کے تمام متعلقہ محکمے ہائی الرٹ پر رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ عمارت کی چھت اور ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری استعمال کی جا رہی ہے، جبکہ چھت پر کھڑی گاڑیوں کو کرینوں کے ذریعے نکالا جا رہا ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق ملبے سے بعض لاشیں مکمل حالت میں جبکہ بعض اعضا کی صورت میں ملی ہیں۔ ریسکیو ادارے کے مطابق جب تک فرانزک اور تکنیکی جانچ کے ذریعے یہ تعین نہیں ہو جاتا کہ برآمد ہونے والے اعضا ایک ہی فرد کے ہیں یا مختلف افراد کے، ہلاکتوں کی حتمی تعداد بتانا ممکن نہیں۔ریسکیو اور سرچ آپریشن بدستور جاری ہے جبکہ شہر بھر میں اس افسوسناک سانحے پر سوگ کی کیفیت پائی جا رہی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں