زیارت، گیس نہ ہونے سے قیمتی جنگلات تبائی کے دہانے پر پہنچ گئے، پشتونخوامیپ

زیارت(آوازٹائمز) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ضلع زیارت کے ضلعی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ضلع زیارت کے بیشتر دیہات آج بھی گیس جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہیں، اس کے علاؤہ جن علاقوں تک گیس پائپ لائن گئی ہے بدقسمتی سے وہاں گیس پریشر نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے نہ گھریلو چولہے جلتے ہیں اور نہ ہی ہیٹر کام کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں عوام ایندھن کے طور پر قیمتی جنگلات کے لکڑیوں کو جلانے پر مجبور ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مجبوری کے باعث زیارت کے قیمتی، نایاب اور عالمی شہرت یافتہ صنوبر کے جنگلات تیزی سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ ایک جانب عوام کو جنگلات کے تحفظ اور ماحولیات کے مثبت اثرات پر لیکچر دیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب جنگلات کو بچانے کا واحد مؤثر ذریعہ یعنی سوئی گیس عوام سے مسلسل چھینی جا رہی ہے، جو عوام کے ساتھ سراسر نا انصافی ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو مہینوں سے زیارت کا درجہ حرارت مسلسل نقطہ انجماد سے نیچے رہنے کے باعث نظامِ زندگی مفلوج ہو چکا ہے، مگر اس کے باوجود فارم 47 کی نام نہاد حکومت اور گیس ڈیپارٹمنٹ عوام دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، جس کے نتیجے میں عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی حکومتِ وقت اور متعلقہ گیس ڈیپارٹمنٹ سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ زیارت میں فوری طور پر گیس پریشر بحال کیا جائے، تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اور قیمتی صنوبر کے جنگلات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ بصورتِ دیگر پارٹی عوام کے تائید اور حمایت سے احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں