اوستہ محمد میں سیکیورٹی کمپنیوں پر نوجوانوں کے استحصال کا الزام، کم تنخواہوں پر طویل اوقاتِ کار

اوستہ محمد (آوازٹائمز)بلوچستان میں سیکورٹی کمپنیاں بے روزگار نوجوانوں کی تذلیل سرعام کر رہے ہیں 12 سے 15 گھنٹے ڈیوٹی لینے کے باوجود سیکیورٹی گارڈ کو 12 سے 15 ہزار روپے تھما دیتے ہیں اور ایمرجنسی چھٹی تک نہیں دیتے حق کی اواز بلند کرنے پر ملازمت سے برخاست کر دیتے ہیں چیف اف بگٹی وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی چیف سیکرٹری بلوچستان سے اپیل کرتے ہیں اس جانب فوری نوٹس لے۔ اوستہ محمد کے عوامی حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے سبب پڑھے لکھے بے روزگار نوجوان اپنے کنبے کی کفالت کے لیے سیکورٹی گارڈ بھرتی ہوتے ہیں 12 سے 15 گھنٹے مسلسل ڈیوٹی کرنے کے باوجود 12 سے 15 ہزار روپے تھما دیتے ہیں جس کی وجہ سے سیکورٹی گارڈ ملازمین شدید مشکلات اور ذہنی کوفت کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ سیکیورٹی گارڈ کو یونیفارم اور دیگر معاملات کے لیے جیب سے رقم بھرنی پڑتی ہے جو کہ سیکورٹی گارڈ نوجوانوں کے سات ظلم اور نا انصافی کے مترادف ہے اوستہ محمد کے عوامی حلقوں نے کہا کہ نوجوان مستقبل کے مہمار ہیں ملک کی بھاگ دوڑ پڑھے لکھے نوجوانوں کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے سیکورٹی کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ سیکیورٹی گارڈ کے ملازمینوں کو 37 ہزار روپے تنخواہ دی جائے اور اوور ٹائم کے بھی مرات دیے جائیں تاکہ پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے اوستا محمد کے عوامی حلقوں نے وزیراعلی بلوچستان بکٹی قبائل کے چیف سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی کمپنیوں کے خلاف قانون کے تحت سخت کاروائی کر کے ان کی لائسنس منسوخ کیا جائے اور سیکورٹی گارڈز کی تنخواہ 37 ہزار روپے مقرر کیا جائے تاکہ سیکورٹی گارڈ کے فرائض سر انجام دینے والے نوجوان اپنے فرائض دیانت داری کے ساتھ سرانجام دے سکیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں