انڈے: اصل یا جعلی؟ چیک کریں اور حفاظتی تدابیر
موسمِ سرما کا آغاز ہوتے ہی، انڈوں کی مانگ میں اضافے کا اثر ہوتا ہے۔ نوسر باز جنہیں ملاوٹ کی عادت ہوتی ہے، انڈوں میں بھی ملاوٹ کر کے جعلی انڈے مارکیٹوں میں فروخت شروع ہوتی ہے۔
کراچی اور بھارت کے کچھ علاقوں میں یہ واقعات سامنے آئے ہیں جہاں دکانوں پر جعلی پلاسٹک کے انڈے بیچے گئے ہیں۔
انڈے بظاہر اصل ہیں لیکن ان میں شامل کیمیکل کمپاؤنڈز صحت کے لحاظ سے مضر ہوتے ہیں۔
جعلی انڈے کا تشخیص اور حفاظت
جعلی انڈے ابالنے کے بعد بہت زیادہ سخت ہوجاتے ہیں۔
نقلی انڈے کو ہلا کر دیکھیں، اندر سے پانی جیسی آواز آئے گی، جبکہ اصلی انڈے میں یہ نہیں ہوتا۔
اصلی انڈے کو توڑیں گے تو اس کی سفیدی اور زردی میکس نہیں ہوتی، جبکہ جعلی انڈے کو توڑنے پر اس کی سفیدی اور زردی مکس ہوتی ہے۔
جعلی انڈے کے خول چمکدار، سخت اور کھردرے ہوتے ہیں جبکہ اصلی میں ایسا نہیں ہوتا۔
نقلی انڈے کے چھلکوں کے اندر ربڑ کی سی لکیر بھی ہوتی ہے۔
اصلی انڈے کی بو کچے گوشت کی طرح ہوتی ہے، جبکہ نقلی انڈے کی بو بالکل نہیں آتی۔
اصلی انڈے کو ہلکے سے توڑ کر دیکھنا نقلی انڈے کے مقابلے میں کرکری آواز پیدا کرے گا۔
جعلی انڈے اصلی انڈے کی طرح چیونٹیوں اور مکھیوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرتے، لیکن اصلی انڈے سے انسان میں دماغ، جگر اور گردوں کی بیماریاں ہوسکتی ہیں۔
خیال رکھیں: صحت ہی خزانہ ہے، جعلی انڈوں سے بچے
( آواز ٹائمز اسلام آباد /روحان شاہ)






