بلوچستان میں ملٹری آپریشن نہیں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہورہا ہے،وزیراعلی بلوچستان

اسلام آباد،کوئٹہ(آوازٹائمز)وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچوں کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا گیا افغانستان میں پنپنے والی دہشتگردی پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے8 سے 10 دہشتگرد افغان تھے، جن کی لاشیں آج بھی یہاں پڑی ہیں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کی 100 فیصد توثیق کرتا ہوں میرے دو چچازاد بھائی پاک فوج میں ہیں، ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کا بیٹا فرانس میں پڑھ رہا ہے اس سال بلوچستان میں 900 واقعات ہوئے آپریشنز میں 760 دہشتگرد بھی ہلاک کیے گئے ریاست نے معافی کا دروازہ کھلا چھوڑا ہے، جو واپس آنا چاہتا ہے اسے راستہ دیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں ممبر قومی اسمبلی جمال رئیسانی کے ہمرا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچوں کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا گیا، ریاست نے معافی کا دروازہ کھلا چھوڑا ہے، جو واپس آنا چاہتا ہے اسے راستہ دیں گے گزشتہ روز سوئی میں 100کے قریب دہشت گردوں نے ڈیرہ بگٹی میں حکومت پاکستان کے سامنے ہتھیار ڈالے ہیں اس سے پہلے یہ وڈیرا اور ان کے ساتھی 2010 میں سرنڈر ہوئے تھے، مگر 2018 میں دوبارہ پہاڑوں پر چلے گئے تھے، اب جب وہ دوبارہ آئے ہیں تو ہم نے انہیں دوبارہ گلے لگایا۔عسکریت پسندوں کا ہتھیار ڈالنا خوش آئند پیشرفت ہے انہوں نے کہا ہے کہ اس سال بلوچستان میں 900 واقعات ہوئے، جن میں 6 افسران سمیت 205 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اور 280 سویلین شہید ہوئے، آپریشنز میں 760 دہشتگرد بھی ہلاک کیے گئے 8 سے 10 دہشتگرد افغان تھے، جن کی لاشیں آج بھی یہاں پڑی ہیں۔ افغانستان میں پنپنے والی دہشتگردی پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے صوبے میں لوگ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمیں ریاست کو کمزور کرنے والے رویوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔میرے دو چچازاد بھائی پاک فوج میں ہیں، ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کا بیٹا فرانس میں پڑھ رہا ہے، اور دوسرے مقبول لیڈر کا بیٹا لندن میں ہے، لیکن ہمارے جو بیٹے یہاں ہیں اور قربانیاں دے رہے ہیں، کیا ہمیں ان کے خلاف پراپیگنڈا کرنا چاہیے انہوں نے کہا ہے کہ ایک جماعت شہرت کا بیانیہ لے کر چلتی ہے، ضمنی انتخابات میں اس جماعت کی شہرت سب نے دیکھ لی، ریاست کو کمزور کرنے والے بیانیے کو ترک کرنا ہوگا اور اپنے رویوں پر غور کرنا ہوگا پاکستان کی ریاست، آرمڈ فورسز اور فیلڈ مارشل کے خلاف بیانیہ بنایا گیا، ہر وقت احتجاج چھوڑ کر وہ کردار ادا کریں جس سے خیبرپختونخوا کے عوام کو ریلیف مل سکے۔وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ آپ کا عہدہ اجازت نہیں دیتا کہ افواج پاکستان کو برا بھلا کہیں، آئین اس کی اجازت نہیں دیتا۔ مجھے بالکل پسند نہیں کہ ایک ساتھی سیاستدان کو ملک دشمن یا سیکیورٹی تھریٹ قرار دیا جائے لیکن کیا ہمیں اپنی رویوں پر غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے انہوں نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کی 100 فیصد توثیق کرتا ہوں، کیا دہشت گردوں کو اسلام آباد تک پہنچنے کی اجازت دے دیں؟ وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی میرے اچھے دوست ہیں لیکن صوبے کے عوام کو اس وقت گورننس اور بنیادی سہولتوں کی شدید ضرورت ہے، عوام کو آج امن، استحکام اور بہتر انتظامی کارکردگی کی فوری ضرورت ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں