بلوچستان کے ضلع ہرنائی وہ واحدخطہ ہے جس میں چاروں موسم کے ہرپھل فروٹ اورسبزیاں دستیاب ہے اور یہ زرخیز سرزمین ہیں جسے اللہ پاک نے ہرنعمتوں سے نوازا ہے بلوچستان جوکہ پورے دنیا معدنی وسائل اور اپنے روایات کے حوالے سے ایک منفرد مقام اور تاریخی حیثیت رکھتی ہیں بلوچستان معدنیات سے مالا مال صوبہ ہے گوادر کے ساحل سے لیکر چاغی کے سیندک ریکوڈک تک جبکہ ہرنائی کے کوئلہ جیسے بلیک گولڈ کے نام سے جانا جاتا ہے یہ علاقے اربوں روپے ریونیو دے رہے ہیں لیکن آج کے اس جدید دور میں بھی یہ علاقے زندگی کے مختلف سہولیات سے محروم ہے جوکہ ایک المیہ سے کم نہیں ہیں اس سلسلے میں ہرنائی جانے کا پہلی بار موقع ملا ہرنائی نام سے مراد ایک بااثر ہندو شخصیت ہرنام داس ہے، جو ہرنائی ضلع کے صدر مقام ہرنائی شہر کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ یہ قصبہ لورالائی، زیارت، سبی اور کوئٹہ سے کافی قریب ہے۔ ہرنائی چاروں طرف سے پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے۔ گھیرے ہوئے پہاڑی سلسلوں کے ‘خلیفت’ اور ‘زرغون’ کے ناموں سے گونجتی ہے۔ ہرنائی کی آبادی 2017 کے مردم شماری کے مطابق 97052 نفوس پر مشتمل ہے۔اب جبکہ 2023 کے مردم شماری کے تحت 3 لاکھ کے قریب ہوسکتا ہے ہرنائی کی رقب 2492 کلومیٹر اسکور پر محیط ہے اور یہ سطع سمندر سے 3 ہزار فٹ بلند ہے ہرنائی کی آبادی کی اکثریت ترین قبائل پر مشتمل ہے اور وہ زیادہ تر ایک منفرد بولی، یا زبان، تارینو (وانیتسی) بولتے ہیں، جو بلوچستان اور صوبہ سرحد کے دیگر حصوں میں بولی جانے والی پشتو سے بالکل مختلف ہے، اور غالباً پشتو کا مرکب ہے۔ اردو اور دیگر زبانیں 18ویں اور 19ویں صدی کے دوران ایک ‘لنگوا فرانکا’ کے طور پر تیار ہوئیں، جب یہاں مختلف نسلی نسل کے لوگ رہتے تھے۔ ہرنائی ضلع سبی کی تحصیل تھی،بعد میں حکومت بلوچستان نے ضلع سبی کو الگ کرکے ہرنائی کو ضلع کا درجہ دیا گیا ہرنائی اور شاہرگ تحصیل جبکہ خوست سب تحصیل اس ضلع میں شامل ہے ضلع ہرنائی جوکہ سبی ڈویژن کے ساتھ منسلک ہے یہ علاقہ وادی نما ہیں ارد گرد سرسبز پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے اس کے ارد گرد پہاڑی علاقوں میں مری بلوچ آباد ہیں ہرنائی جوکہ گرم ترین ضلع سبی اور سرد ترین ضلع زیارت کے درمیان واقع خوبصورت وادی ہے یہاں پر پشتون قبائل کے ساتھ ساتھ بلوچ قبائل بھی آباد ہیں اس سلسلے میں اپنے کزن کے ساتھ پی پی ایچ آئی ضلع ہرنائی کے ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر حاجی قاہر خان کے میزبانی میں ہم کوئٹہ سے ہرنائی کی طرف روانہ ہوئے تو کچلاک سے ہوتے ہوئے زیارت کراس سے موڑ کاتے ہوئے بذریعہ روڈ ہرنائی پہنچے راستہ انتہائی خستہ حال اور ناقابل سفر تھے کوئٹہ سے ہرنائی 170 کلومیٹر کے فاصلے پر 6 گھنٹے کا سفر طے کرنا پڑا راستے میں زردالو ۔شاہرک خوسٹ اور دیگر اہم علاقے دیکھنے کا موقع ملا جہاں پر کوئلہ کے سینکڑوں کان نظر آئے لوگ روزانہ سینکڑوں گاڑیوں کے ذریعے یہاں سے کوئلہ پنجاب اور ملک کے دیگر شہروں کی طرف لے جایا کرتے ہیں پرانے زمانے میں لوگ ریل کے ذریعے کوئلہ پنجاب لے جاتے تھے جہاں پر کوئلہ اچھے داموں فروخت ہوتی ہیں پنجاب میں یہ کوئلہ فیکٹریوں اور دیگر ضروریات کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں ہرنائی کا روڈ قابل سفر نہ ہونے کی وجہ سے عام لوگ بالخصوص بزرگ ،بچے بچیاں اور مریضوں کو کوئٹہ لے جانے میں کافی مشکلات پیش آتی ہیں ہرنائی زیارت اور سبی کے بیج میں واقع ہیں سردیوں میں زیارت کے لوگ ہرنائی کی طرف رخ کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک گرم علاقہ ہیں لیکن اللہ پاک کی رحمت اس ضلع کو حاصل ہیں یہاں پر سردی اور گرمی کے موسم کے ہر پھل فروٹ میوہ سبزیاں پائی جاتی ہیں بالخصوص لہسن اس علاقے کا بہترین فصلات میں شمار کی جاتی ہےپورے شہر کے ارد گرد ندی نالے ہیں اور زیارت کا پانی اس علاقے سے ہوتے ہوئے بولان کی طرف جاتا ہیں یہ علاقہ بہت خوبصورت اور سرسبز ہیں یہاں کے لوگ مہمان نواز اور خوش اخلاق اور خوش مزاج ہیں راستے میں کئی جگہوں پر سکیورٹی کے چیک پوسٹ قائم تھے جبکہ ہرنائی آتے ہوئے کئی جگہوں پرپکنک پوائنٹ نظر ائے جس سے اندازہ ہوا کہ یہ زندہ دل اور خوبصورت لوگوں کا شہر ہے سابق صدر ایوب خان اپنے دور میں اس علاقے کا دورہ کیا تھا 1965 کے زمانے میں انہوں نے یہاں پر ایک بہترین سرکاری ریسٹ ہاؤس قائم کیا تھا جو ابھی ہے لیکن حکومتی توجہ کی ضرورت ہے انگریزوں کے بنائے ہوئے پہاڑوں سے پانی کا چشمہ اس علاقے کے واٹر چینل کے ذریعے زرعی زمینات کو آج بھی سیرآب کررہے ہیں پہاڑوں اورزمینوں سے یہ لوگ کوئلہ اور دیگر زرعی پیداوار سے سالانہ کروڑوں روپے کی تجارت کر رہے ہیں یہاں کے لوگوں کے خوشحالی کا راز بھی یہی ہیں یہاں کے لوگ بہت ستم کش اور محنتی ہیں سنگلاخ اور پھرتیلی زمینوں کو زرخیر بناکر کاشتکاری کرنا ان لوگوں کی مشقت بھری زندگی کی عکاسی کرتا ہے لیکن سرکاری سطح پر آج تک ان سے بڑے پیمانے پر ریونیوو وصول کی جارہی ہیں ان کے چوتھا حصہ اس علاقے پر خرچ ہوتا تو یہ جنت نظیر بن جاتا ہیں یہاں پر نہ روڈ ہے اور نہ ہی دیگر بنیادی سہولیات ہیں اگر اس علاقے کو توجہ دیا جاتا تو دنیا بھر کے لوگ اس تاریخی جگہ میں سیاحت کے لئے آجاتے جبکہ ایک بہترین ریلوے اسٹیشن موجود ہیں حکومت اور محکمہ ریلوے کے عدم دلچسپی کے باعث یہ ریلوے اسٹیشن کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہیں کئی کئی کلومیٹر میں ریلوے ٹریک کا نام ونشان تک نہیں ہیں اگر اس ریلوے اسٹیشن کو فعال کرتے تو کئی روزگار کے مواقع پیدا ہوتا یہاں کے لوگوں میں سیاسی شعور موجود ہیں اس علاقے میں پشتون قبائل کے علاوہ بلوچ قبائل اور ہندو کمیونٹی بھی کئی صدیوں سے آباد ہیں پشتون اور بلوچوں میں اپنے اپنے رشتہ داریاں ہیں یہاں کا ماحول بھائی چارے جیسے فضاء قائم ودائم ہیں ریلوے اسٹیشن کے بلمقابل بلوچ پاڑہ آباد ہیں جو پشت در پشت یہاں روزگار کے لئے آئے تھے اج بھی ان کے نسلیں یہاں آباد ہیں جو بلوچوں کے مختلف قومیت سے وابسطہ ہیں دن کو روزگار کے تلاش میں نکل کر رات ریلوے اسٹیشن کے بلکل سامنے قائم بلوچ پاڑہ میں بزرگ اور نوجوان کچہری کرتے ہیں پشتونوں کے علاوہ بلوچوں کے بھی بڑے پیمانے پر تجارت اور کاروبار پر منسلک انتہائی خوشحال اور پرامن زندگی بسر کررہے ہیں اس دوران بلوچ پاڑہ جانے کا موقع ملا جہاں پر علاقے کے سیاسی وسماجی رہنما ملک مراد خان بلوچ سے ملاقات ہوا وہ ایک خوش مزاج اور ہردلعزیز شخصیت کے مالک تھے انھوں نے ہمیں خندہ پیشانی سے استقبال کیا اور اس دوران طویل بلوچی حال حوال ہوا وہ مہمان نواز ہونے کے ساتھ ساتھ ہر ایک کے ساتھ بلاتکلف ملتا اور ان کے مسائل کے حل کے کیے اپنی طرف سے ہرممکن کوشش کرتا وہ صدیوں سے اس علاقے میں رہائش پذیر ہیں کئی دفعہ اپنے وارڈ سے کونسلر منتخب ہوتا آرہاہے بلوچ پاڑہ میں ہر سہولت دینے کی کوشش کی ہے ان کے خدمات سے علاقے کےلوگ بہت خوش دیکھائی دے رہے تھے اس کا مطلب کہ وہ دن رات اپنے علاقے کے ترقی کےلئے کوشاں ہے اس علاقے میں دیگر شعبوں کی طرح کھیل کے شعبے میں بھی نمایاں نام کمائیں ہیں پشتون اور بلوچوں کا پسندیدہ کھیل فٹبال ہے فٹبال کے میدان میں ہمارا ایک بلوچ دوست ملنگ ایک بہترین فٹبالر رہا ہے جھنوں نے پورے ملک میں ضلع ہرنائی کانام روشن کیا ہے لیکن حکومتی عدم توجہی کے باعث ان کے لئے کچھ بھی نہیں ہوا لیکن وہ ایک زندہ دل انسان ہیں چھوٹے موٹے کاروبار کرکے اپنا گھر چلاتا ہیں اس جیسے اور بھی نوجوان کھلاڑی موجود ہیں جوکہ حکومت کی طرف سے توجہ کا طلبگار ہیں ہرنائی کے علاقے سنجاوی جوکہ لورالائی سے ہوتے ہوئے پنجاب کے لیے راستہ ہے بڑے بڑے ندی اس روٹ پر اتے ہیں اور دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے یہاں سے سفر کرنا جان ہتھیلی پر رکھنا ہے اور یہاں کے مین شاہراہ پر واقع پہاڑی سلسلے میں آبشار اور ندیاں بہتے ہوئے حسین نظارہ دیدنی ہیں لوگوں کی روایتی ٹوپی اور پگڑی جگہ جگہ بڑے اور بزرگوں کی اکھٹا بھیٹک ماضی کے قصہ گو داستانوں کی محفل کا یاد تازہ کرتی ہیں یہاں آب و ہوا اور چشموں سے بہتا ہوا پانی قدرت کی عجب شاہکار کی ایک انمول تحفہ ہے بلند بالا پہاڑی راستہ کسی خطرے سے کم نہیں ہیں ہرنائی سے زیارت کا فاصلہ پہاڑی علاقے سے تقریبا 30 کلومیٹر ہے لیکن روڈ نہ ہونے کی وجہ سے دشوار گزار پہاڑی سے جاتے ہوئے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا پڑتاہےجو کسی خطرے سے کم نہیں ہیں پورے علاقے کے پل وغیرہ طوفانی بارشوں اورسیلاب کی وجہ سے سیلابی پانی سے بہ گئے ہے جگہ جگہ پل ٹوٹے ہوئے نظر آتے ہیں 7 اکتوبر 2021 میں یہاں پر شدید زلزلہ آیا تھا جس سے 20 سے زائد افراد جاں بحق اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے جس سے معمولات زندگی کو بے حد متاثر کیا کئی سرکاری اور نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا ہسپتالوں اور اسکولوں کےعمارات کو ناقابل استعمال بنایا گیا زلزلہ کی وجہ سے خواتین اور بچے نفسیاتی مریض بن چکے تھے یہاں پر مون سون بارشوں سے کئی کئی دن راستے بند ہوتے ہیں اگر ایک دفعہ بارش کا پانی آتا ہے تو کئی دن روڈ بند ہوجاتا ہے جبکہ دوسرا متبادل اور راستہ بھی نہیں ہیں میں اپنے کزن کے ساتھ پی پی ایچ آئی ہرنائی کے ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر حاجی قاہر خان کے مہزبانی پر پہلی بار ہرنائی گئے ان کے مہمان نوازی اور اس کے دفتری عملے نےاپنا مہمان نوازی کا حق ادا کیا پی پی ایچ آئی ہرنائی کے فنانس آفیسر سمیع اللہ سومرو سمیت چنگیز گچکی مجاہد بزدار کے ساتھ ساتھ دیگر اسٹاف نے حد سے زیادہ عزت احترام اور پیار دی بلوچ اور پشتون کا صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ داری اور تعلقات تاریخی ہیں صحت کے شعبے میں محکمہ صحت بالخصوص پی پی ایچ آئی نے بہتر انداز میں اس جیسے دور دراز علاقے میں لوگوں کو ان کے دہلیز پر صحت کے بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے کے لیے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائیں ہیں زلزلہ کے بعد کنٹینرز نما کمرہ ایمرجنسی حالت میں فراہم کیا گیا تاکہ ان کا بروقت طبی امداد کی جاسکیں ہرنائی میں خواتین کو ان کے دہلیز پر بی ایچ یو گرمانی جوکہ ماڈل بی ایچ یو کے حثیثت رکھتا ہے یہاں پر ٹیلی ہیلتھ سینٹر کے ذریعے ملک کے نامور اور ماہر ڈاکٹروں سے علاج ومعالجہ کی سہولیات فراہم تھی جس سے روزانہ کئی مریض آکر ان ماہر ڈاکٹروں کے مشوروں سے استفادہ حاصل کررہے ہیں مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ بلوچ خاتون جس کا تعلق مستونگ سے تھا وہ بی ایچ یو گرمانی میں بحثیت سیکالوجسٹ اپنے خدمات سرانجام دے رہے تھے بڑی خوشی کی بات ہے کہ بی ایچ یو گرمانی جیسے سینٹر میں ایک سیکالوجسٹ اپنے نگرانی میں زلزلہ کے بعد علاقے کے خواتین اور بچوں کو نفسیاتی علاج کررہا ہیں جس سے کئی مریض استفادہ حاصل کر چکے ہیں بی ایچ یو گرمانی میں ٹیلی ہیلتھ سینٹر کا بہترین سروسز مہیا کرنا اس کا کریڈٹ پی پی ایچ آئی بلوچستان کے سربراہ بالخصوص ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر ہرنائی حاجی قاہر خان کو جاتا ہے جن کے نگرانی میں یہ سینٹر کامیابی کی طرف رواں دواں ہیں اسی طرح تمام بی ایچ یوز کو جو سہولیات دی گئی ہے جن کی ان کو ضرورت تھا جبکہ یو این ایف پی اے کی جانب سے مختلف بی ایچ یوز میں سہولیات فراہم کی گئی تھی اس دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ہرنائی ڈاکٹر فیاض احمد مستوی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا جو اپنے قابلیت اور صلاحیتوں کے بدولت صحت کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کررہا ہیں محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کے کوآرڈینیشن باہمی روابط کو دیکھ کر خوشی محسوس ہوئی کہ یہ آفیسران اپنے ادارے سے مخلص ہوکر عوام کو صحت کے بنیادی سہولیات کی فراہمی کے کوشاں ہیں ہم نے اکثر اضلاع میں دیکھیں ہے کہ یہ دونوں ادارے کے منتظمین کے درمیان روابط کا فقدان رہا ہیں لیکن ہرنائی میں اس کے برخلاف دیکھنے کو ملا اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ اپنے شعبوں سے کتنے مخلص دکھائی دیتے ہیں اس دوران ضلع ہرنائی کے سماجی رائنماء شاہ میر بلوچ سے ملاقات ہوا جو انڈس ہسپتال پروجیکٹ میں بطور ضلعی آفیسر کام کررہا تھا اس سے ملاقات کے دوران یہ محسوس ہوا کہ یہ لوگ اپنے علاقے کے ترقی کے لئے دلچسپی لے رہی ہیں انڈس ہسپتال پروجیکٹ جو کہ صحت کے شعبے میں کام کررہی ہیں اچھا اور بہترین پروجیکٹ ہے جو بلوچستان کے مختلف اضلاع میں یہ پروجیکٹ کامیابی سےچل رہا ہیں اس کے علاوہ صحافت کے شعبے سے وابستہ ہمارا جگری دوست محمد حنیف ترین سے ملاقات کا موقع ملا جو علاقے میں اپنے صحافت کے شعبے سے جانی پہچانی حیثیت رکھتا ہیں ان کے صحافت کے شعبے میں گرانقدر خدمات ہیں وہ ایک بہترین شخصیت کے مالک ہیں اس کے علاوہ شاہ حسین بلوچ جوکہ صحافت کے میدان میں جانی پہچانی مقام رکھتے ہیں لیکن کسی رشتہ دار کے شادی کے حوالے سے کراچی گیا ہوا تھا جس کی وجہ سے ملاقات نہ ہوسکا اس دوران میرے کزن محمد یوسف محمد حسنی۔اصغر محمد حسنی میرے ہمسفر تھے.
(رپورٹ محمدعیسی محمدحسنی )













