کوئٹہ(آوازٹائمز)جمعیت علما اسلام تحصیل صدر چمن کے رکن مجلس شوری اور یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان کے ممبر حافظ محمد صدیق مدنی نے بھارتی ریاست بہار کے وزیرِ اعلی نتیش کمار کی جانب سے ایک سرکاری تقریب میں مسلمان خاتون ڈاکٹر کا حجاب زبردستی اتارے جانے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔حافظ محمد صدیق مدنی نے کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف مذہبی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ خواتین کے وقار، انسانی حقوق اور جمہوری اقدار پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حجاب ایک مسلمان خاتون کی مذہبی شناخت اور ذاتی آزادی کی علامت ہے جسے کسی بھی سرکاری عہدے دار کو زبردستی ہٹانے کا کوئی اخلاقی، قانونی یا آئینی حق حاصل نہیں۔انہوں نے اس واقعے کو بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی عدم برداشت، تعصب اور اسلاموفوبیا کی واضح مثال قرار دیا اور کہا کہ جو ریاست خود کو سیکولر اور جمہوری ہونے کا دعوی کرے، وہاں اس نوعیت کا واقعہ پوری دنیا کے سامنے شرمندگی کا باعث ہے۔ حافظ محمد صدیق مدنی نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، متاثرہ خاتون سے معذرت کی جائے اور ذمہ دار کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مثر کردار ادا کریں۔ حافظ محمد صدیق مدنی نے مزید کہا کہ خواتین کا احترام، مذہبی آزادی اور انسانی وقار کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان ہیں اور ان اقدار کی پامالی کسی صورت قابلِ قبول نہیں






