کوئٹہ +خضدار (نیوزڈیسک) بلوچستان کے اہم ضلع خضدار کے تعلیمی حالت زار نے محکمہ تعلیم اور صوبائی حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا، روزنامہ آواز ٹائمز کا تعلیم سے متعلق پورے ملک میںمارچ کے مہینے میںکمپئین جاری ہے ، گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول اور گورنمنٹ بوائز پرائمری بوائز، ھینارو سب تحصیل گریشہ تحصیل نال ضلع خضدار کی حالت دیکھ کر محکمہ تعلیم اور صوبائی حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کا پول کھل گیا، مزکورہ پرائمری کے تمام تصاویر آپ کے ساتھ رپورٹ میںشئیر کردئیے گئے ہیں نومنتخب چئیرمین یونین کونسل گواراست گریشہ عبدالحکیم بلوچ نے روزنامہ آواز ٹائمز اسلام آباد کو بتایا کہ مزکورہ دونوںسکولیں تقریبا 5 سال سے زائد عرصہ ہوا ہے غیرفعال ہے اور اساتذہ نہیںہے جبکہ مزکورہ دونوںسکولیں 2015 کو تعمیر ہوئے ہیںکچھ عرصہ اساتذہ تعینات ہوئے جو کبھی آتے اور کبھی نہیںآتے بعد میں2017 سے اساتذہ کا نام ونشان تک نہیں.دوسری چاردیواری نہ ہونے کے حوالے سے بھی تفتیش ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ بھی کرپشن کی نظر ہوگئی ہے.
یونین کونسل گواراست گریشہ 8 سو زائد گھروںپر مشتمل علاقہ ہے جس میںہزاروںبچے اور بچیاںہیںجن کی تعلیمی سلسلہ ختم ہوچکا ہے یا تعلیمی سلسلے میںشدید دشواری کا سامنا ہے، چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری بلوچستان، کمشنر قلات اور ڈپٹی کمشنر خضدار کو اس سلسلے میںفوری اقدامات کرنے چاہیے اور 5 سالہ غیرذمہ داری کےمرتکب آفیسران اور ذمہ داروںکیخٌلاف سخت کاروائی کرنی چاہیے تاکہ مستقبل کے معماروںکی وقت بچایا جاسکے اور بہتر مستقبل کیلئے مناسب اقدامات کرنے چاہیے.


















