سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی قانونی و اخلاقی فتح ہے، راجہ خلیق الزمان انصاری

کراچی(آوازٹائمز)وزارتِ اطلاعات و نشریات حکومتِ پاکستان کے ترجمان برائے سندھ امور راجہ خلیق الزمان انصاری نے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پرمننٹ کورٹ آف آربٹریشن(پی سی اے)کے حالیہ فیصلے کو پاکستان کی واضح قانونی اور اخلاقی فتح قرار دیا ہے، کوئی بھی ملک کسی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل، غیر مثر یا سیاسی مقاصد کے لیے ازسرِنو تعبیر کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔راجہ خلیق الزمان انصاری نے کہا کہ عالمی عدالت کی رائے نے اس مقف کی توثیق کی ہے جو پاکستان مسلسل پیش کرتا آیا ہے کہ کوئی بھی ملک کسی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل، غیر مثر یا سیاسی مقاصد کے لیے ازسرِنو تعبیر کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو نظرانداز کرنے، کارروائی میں تاخیر کرنے اور عدالت کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھانے کی کوششیں بین الاقوامی قانون اور معاہداتی ذمہ داریوں سے انحراف کی عکاسی کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پانی کوئی سیاسی ہتھیار نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی کا سہارا ہے، پاکستان کو معاہدے کے تحت مختص مغربی دریاں کے قدرتی بہا میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔ترجمان نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کی یہ ہدایت کہ بھارت غیر محدود بہا کو یقینی بنائے اور پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن میں معاہدے کے تقاضوں کی مکمل پاسداری کرے، بھارت کے یکطرفہ مقف کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے اعتراضات قانونی بنیادوں، فنی شواہد اور معاہدے کی روح کے مطابق تھے۔راجہ خلیق الزمان انصاری نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور قانونی و سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جبکہ بھارت کا جزوی عمل درآمد کا رویہ دوطرفہ معاہدوں پر اعتماد کو مجروح اور بین الاقوامی اصولوں سے اس کی وابستگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ سندھ طاس کسی ایک ملک کی طرف سے دوسرے پر احسان نہیں بلکہ عالمی بینک کے فریم ورک کے تحت ایک باقاعدہ بین الاقوامی معاہدہ ہے، اسے سیاسی رنگ دینے یا دبا کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی ہر کوشش کو پاکستان تمام دستیاب قانونی و سفارتی فورمز پر چیلنج کرتا رہے گا۔راجہ خلیق الزمان انصاری نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم اور چوکس ہے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کو عوام کے روزگار، زراعت اور آبی تحفظ پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں