سیالکوٹ (آوازٹائمز) وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران پراجیکٹ کے ہیڈ جنرل فیض کے خلاف نو مئی اور دیگر مقدمات بھی چلیں گے۔ فیض اور بانی کے پھیلائے جراثیم کا خاتمہ ضروری ہے۔ بیو روکریسی اور دیگر اداروں میں چھپے لوگوں کا بھی احتساب ہو نا چاہیے۔ بعض سازشی عناصر ابھی بھی بانی کو واپس لانے کے لئے کوشاں ہیں۔ معاملہ منطقی انجام تک نہ پہنچا تو ملک کی خیر نہیں ہو گی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا فیض حمید کو15 ماہ کارروائی چلا کر سزا سنائی گئی، مزید قانونی کارروائی کی جائے گی، جنرل فیض اب جنرل نہیں رہے، ان سے جنرل کا ٹائٹل بھی چھین لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چند دنوں میں ہونے والے واقعات کی مثال نہیں ملتی، فوج کے ادارے نے شفافیت سے سابق آئی ایس آئی کے سربراہ کو سزا سنائی ہے، ابھی اور بھی چارجز ہیں جن پر قانونی کارروائی کی جائے گی، ملک کے خلاف گھناونی سازش کا عمران خان پروجیکٹ کا دس بارہ سال قبل زور و شور سے آغاز ہوا۔ لاہور میں جو پہلا جلسہ ہوا اس کے انتظامات نادیدہ قوتوں نے کئے۔ اس وقت میاں نواز شریف کے چار سالہ دور اقتدار میں ملک بیمثال ترقی کی جانب گامزن تھا۔ ایک سازش کے تحت کسی قانو نی کارروائی کے بغیر سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے میاں نواز شریف کو ناہل قرار دے کر ہٹا دیا گیا۔ اس پروجیکٹ پر عمر خان کے علاوہ اور بھی شخصیات کا م کر رہی تھیں۔ پروجیکٹ کے ہیڈ جنرل فیض حمید تھے۔ اس پروجیکٹ پر مکمل عملدرآمد شروع ہوا۔ انہوں نے کہا نواز شریف کو ہٹانا، مقدمے چلانا، دھمکیاں دینا سب جنرل فیض کی سربراہی میں ہو ر ہاتھا۔ انہوں نے کہا الزامات لگانا، عمران خان لانا سب فیض حمید کی سپروژن میں ہوا۔ عمران اور جنرل فیض ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزم تھے۔ انہوں نے کہا عمران خان کو پروجیکٹ کا انچارج بنایا گیا۔2018ء میں دھاندلی ذریعے اسے برسر اقتدار لایا گیا الیکشن کا حال سب کو پتہ ہے۔ جنرل فیض اس پرجیکٹ کے اہم جزو تھے۔ انہوں نے کہا چارسال میں عمران خان نے جو ملک میں تباہی پھیری جنرل فیض اور یہ دونوں اس کے بنیفشری تھے۔ یہ دونوں ملک کی تباہی و بربادی کے ذمہ دار ہیں۔ عوام جانتی ہے عمران نے کتنا ڈیلیور کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جنرل فیض کی معاونت سے تمام سیاسی قیادت کو جیل میں ڈالا۔ جنرل فیض نے عمران خان کو چار سال تقویت بخشی۔ اور ملک کے ساتھ بھیانک کھیل کھیلتے رہے۔ ٹاپ سٹی پروجیکٹ پر قبضہ کیا جو کہ تاریخ کا شرمناک باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کو ہٹانا، قید کرنا، جلاوطن کرنا سب جنرل فیض کا کام تھا۔ جس کا بنیفشری عمران خان تھا۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس ذاتی طور پر ایسی معلومات ہیں۔ اس وقت پارلیمنٹ کو آئی ایس آئی کا ذیلی ادارہ بنا دیا گیا تھا۔ وزیراعظم ہاوس کے بیک لان میں ملک کی تباہی کے منصوبے بنتے جس کے لئے تمام تر ہدایا ت آئی ایس آئی سے آتیں۔ ایک وقت آیا اس پر سٹینڈ لیا گیا، آئی ایس آئی چیف کاتبادلہ ہوا اور اس کے بعد جنرل فیض پلان بتدریج بے نقاب ہوتا گیا۔ انہوں نے کہا جنرل فیض نے کور کمانڈر کی حثیت سے پھر سے بانی کو سہارے فراہم کرنے شروع کر دئیے۔ جس کے بعد سانحہ نو مئی ہوا۔ نو مئی کے پلان میں ملوث لوگ اندر سے بھی تھے تا ہم مین پاور پی ٹی آئی نے دی۔ اس میں بھی جنرل فیض کا فعال کردار تھا یہ بانی اور فیض کا جوائنٹ وینچر تھا انہوں نے کہا کہ سانحہ نو مئی میں شہدا کی یادگاروں کی بیحرمتی کی گئی۔ پاک فوج کی تذلیل کی گئی۔ اور فوج کے ادارے کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔ آج اسی فوج نے معرکہ مرصوص میں ملک کا سر فخر سے بلند کیا، انہوں نے کہا فیض حمید اور پی ٹی آئی کا گٹھ جوڑ نرقرار رہتا تو پاکستان اندر سے برباد ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی کچھ سازشی عناصر بانی پی ٹی آئی کو واپس لانے کے لئے سرگرم ہیں۔ یہ جنرل فیض کے بوئے ہوے بیج ہیں۔ جن کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ طالبان کو بھتہ دیتی ہے۔ یہ کہتے ہیں دہشتگردوں سے مذاکرات کریں۔ کے پی کے حکومت کی طرف سے عدم تعاون کے باعث صوبے میں دہشتگردوں کو کنٹرول کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا مغربی سرحد پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیض اور بانی کے پھیلائے جراثیم کا خاتمہ ضروری ہے۔ بیو روکریسی اور دیگر اداروں میں چھپے لوگوں کا بھی احتساب ہو نا چاہیے۔ جنرل فیض کو تو اپیل کا حق حاصل ہے نواز شریف کو یہ سہولت بھی میسر نہ تھی۔ انکو انجام تک نہ پہنچایا گیا تو ملک کے حق میں خیر ثابت نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا جنرل باجوہ بھی تو دیکھ رہے تھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ٹھکانوں کی سب کا احتساب ہو گا۔ ابھی فیض پر نو مئی اور دیگر مقدمات بھی چلیں گے۔ انہوں نے کہا یہ مسئلہ یہاں ختم نہیں ہو گا۔ ابھی آگے اور بھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ انہوں نے کہا دعا ہے فیض حمید اور بانی پی ٹی آئی کا معاملہ منطقی انجام تک پہنچے۔ انہوں نے کہا مجھے کہا گیا تھا کہ نواز شریف کے خلاف بولو ورنہ قید کردئیے جاو گے، میں نے انکار کیا تو پانچویں دن گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا جو گرئیں فیض حمید اور جنرل باجوہ نے لگائیں نہ جانے کب کھلیں گی۔ ہم ایک ہائبرڈ نظام کے تحت ملک کو ریوائیو کر رہے ہیں






