پاک افغان چمن بارڈر کی بندش 15ویں روز میں داخل، تجارتی سرگرمیاں معطل

چمن(آوازٹائمز)پاک افغان چمن بارڈر 15 روز سے ہر قسم کی تجارت اور آمدورفت کے لیے بند ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے تاجروں، مزدوروں اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔سرحد کی بندش کا سبب افغانی فورسز کی جانب سے سرحدی دراندازی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پاک افغان گیٹ بند کر دیا گیا۔بارڈر پر 1000 سے زائد مال بردار کنٹینرز اور گاڑیاں گزشتہ دو ہفتوں سے پھنسے ہوئے ہیں، جس سے برآمدات و درآمدات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔تاجر تنظیموں کے مطابق روزانہ لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ خراب ہونے والا سامان ضائع ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔بارڈر کی بندش سے نہ صرف تجارت رکی ہے بلکہ پیدل آمدورفت بھی مکمل طور پر معطل ہے، جس سے سرحدی علاقوں کے ہزاروں افراد، جن کا روزگار آمدورفت سے وابستہ ہے، شدید مشکلات میں مبتلا ہیں۔دوسری جانب چمن بارڈر سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 6,500 افغان مہاجرین کو رجسٹریشن و تصدیق کے بعد واپس افغانستان بھیجا گیا، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمل قومی سلامتی کے تناظر میں انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیا جا رہا ہے۔تاجر برادری اور مقامی رہنماں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان حکومت سے سفارتی سطح پر فوری بات چیت کر کے بارڈر کو کھلوائے تاکہ تجارتی سرگرمیاں بحال ہوں اور معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں