پاک چین تعلقات اور سی پیک میڈیا کا کردار

پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کی داستان برسوں پرانی ہے، جسے آہنی دوستی اور سدا بہار اسٹریٹجک شراکت داری جیسے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ یہ تعلقات نہ صرف سیاسی اور معاشی سطح پر مضبوط ہیں بلکہ ثقافتی اور عوامی سطح پر بھی گہرے ہیں۔ اس دوستی کی ایک اہم کڑی پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) ہے، جو خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک انقلابی منصوبہ ہے۔ تاہم، اس دوستی کو مزید مضبوط بنانے اور سی پیک کے فوائد کو عوام تک پہنچانے میں میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے، جیسا کہ حال ہی میں چینی سفارتخانے کے ناظم الامور مسٹر شی یوان چیانگ نے ایک تربیتی ورکشاپ کے دوران اجاگر کیا۔
اسلام آباد میں سینٹر فار ڈیموکریسی اینڈ کلائمیٹ اسٹڈیز (سی ڈی سی ایس) کے زیر اہتمام منعقدہ ورکشاپ بعنوان “سی پیک رپورٹنگ اور میڈیا ایتھکس” میں چینی ناظم الامور نے زور دیا کہ میڈیا پاک-چین تعلقات کو فروغ دینے اور سی پیک کے منصوبوں کے بارے میں درست معلومات پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافی اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں بلکہ پاکستانی عوام میں چین کے بارے میں شعور اجاگر کرنے میں بھی اہم ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے جو نہ صرف معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ عوامی رائے کو تشکیل دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سی پیک پاکستان کی معاشی ترقی کا ایک سنگ میل ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے منصوبوں اور صنعتی زونز کے قیام کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کر رہا ہے بلکہ خطے میں استحکام اور خوشحالی کا باعث بھی بن رہا ہے۔ بدقسمتی سے، کچھ غلط فہمیوں اور منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے سی پیک کے حوالے سے کبھی کبھار غیر ضروری تنازعات جنم لیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق پر مبنی رپورٹنگ کے ذریعے عوام کو درست معلومات فراہم کرے۔ جیسا کہ سی ڈی سی ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر فرقان راؤ نے کہا، حقائق پر مبنی رپورٹنگ پاکستانی عوام کو سی پیک کے منصوبوں کے بارے میں درست معلومات فراہم کر سکتی ہے۔” یہ بات نہایت اہم ہے کہ صحافی اور انفلوئنسرز اپنے پلیٹ فارمز کو ذمہ داری سے استعمال کریں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فیکٹ چیکنگ پر توجہ دیں۔
ورکشاپ میں شامل سینئر صحافیوں اور ماہرین نے فیکٹ چیکنگ، میڈیا سیفٹی، اور غلط معلومات سے نمٹنے کی حکمت عملیوں پر روشنی ڈالی۔ یہ سیشنز نہ صرف صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے مفید تھے بلکہ اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ میڈیا کو پاک-چین دوستی کے مثبت بیانیے کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ جیسا کہ چینی سفارتخانے کے کونسلر مسٹر وانگ شینگ جئے نے کہا، “صحافی اور انفلوئنسرز کو چاہیے کہ وہ چین سے متعلق خبروں کے ترجمان، تصورات کے مفسر اور دوستانہ عوامی رائے کے رہنما کے طور پر کام کریں۔یہ ایک واضح پیغام ہے کہ میڈیا کی پیشہ ورانہ ذمہ داری نہ صرف درست رپورٹنگ تک محدود ہے بلکہ اسے دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر قربت کو بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔
پاکستان-چین انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید اور نیشنل پریس کلب کے سابق صدر شکیل قرار نے بھی اس ورکشاپ کو سراہتے ہوئے اسے پاک-چین تعلقات کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف صحافیوں کی صلاحیتوں کو بہتر بناتے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔
آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ میڈیا پاک-چین دوستی کا ایک اہم ستون ہے۔ سی پیک جیسے منصوبوں کی کامیابی نہ صرف معاشی اور تکنیکی ترقی پر منحصر ہے بلکہ اسے عوامی حمایت اور درست معلومات کی ترسیل کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستانی میڈیا کو چاہیے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے سی پیک کے فوائد کو اجاگر کرے اور پاک-چین تعلقات کے مثبت بیانیے کو فروغ دے۔ اسی طرح، سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کو ذمہ داری سے استعمال کرنا چاہیے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا پل مزید مضبوط ہو۔ یہ ورکشاپ اس سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو میڈیا کے کردار کو نہ صرف اجاگر کرتی ہے بلکہ اسے مزید موثر بنانے کے لیے ایک واضح رہنما اصول بھی فراہم کرتی ہے۔

تحریر: عائشہ عمران


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں