لاہور (آوازٹائمز) پنجاب یونیورسٹی پاکستان سٹڈی سنٹرنے امریکن انسٹیٹیوٹ آف پاکستان سٹڈیزکے اشتراک سے ’روایت اور ٹیکنالوجی: کمپیوٹر دور میں فتاویٰ‘ کے موضوع پر خصوصی لیکچر کا انعقاد کیا گیا جس میں کلیمسن یونیورسٹی، امریکہ سے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر مشال سیف نے بطور مہمانِ مقرر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹرپاکستان سٹڈی سنٹرپروفیسر ڈاکٹر امجد عباس خان، فیکلٹی ممبران اور پنجاب یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات سے ایم فل،پی ایچ ڈی سکالرز نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر امجدعباس خان نے مہمانِ مقرر اور شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب محققین کے لیے مفید ثابت ہوگی۔ڈاکٹر مشال سیف نے اپنے لیکچر میں مؤقف اختیار کیا کہ حالیہ تکنیکی ترقی نے فتویٰ جاری کرنے کے عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ آج بھی جاری غیر رسمی فتویٰ نویسی کے عمل کو غیر مدون، سیاق و سباق کے مطابق، متنوع اور لچکدار اسلامی قانون کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ٹیکنالوجی کا استعمال غیر ارادی طور پر اس تنوع کو متاثر کر رہا ہے اور اس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی معیار بندی اور غیر شخصی پن سامنے آ رہا ہے۔ انہوں نے فتاویٰ کی شکل و صورت میں ہونے والی اہم تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالی، جن میں طوالت میں تبدیلی، مصادر کے حوالہ جات، اندازِ بیان اور مخاطب کرنے کے طریقے، تخصیص میں کمی، اور ایک معیاری نظریے کی جانب جھکاؤ شامل ہیں






