پنجگور بارڈر پر روزگار کے مواقع محدود، مزدور طبقہ شدید متاثر

پنجگور(آوازٹائمز)بارڈر میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے مایوسی پھیل رہی ہے۔روزگار کے مواقع محدود کرنے سے مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہے۔ آل پنجگور بارڈر کمیٹی کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ بارڈر میں غیر یقینی صورتحال ہے روزگار کے مواقع محدود کرنے سے مزدور طبقہ زیادہ متاثر ہو گیا ہے پہلے روزانہ کی بنیاد پر 600 گاڑیوں کا لسٹ جاری کیا جاتا تھا جسکی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر 600 ڈرائیور اور 600 کلینر کو روزگار کا موقع مل رہا تھا وہ اسی مزدوری سے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے تھے،اب لسٹ میں کٹوتی سے روزانہ کی بنیاد پر 378 ڈرائیور اور 378 غریب کلینر برائے راست بے روزگار ہو چکے ہیں ان کے گھروں کے چھولھے بج چکے ہیں دو وقت کی روٹی کا حصول ان کے لئے مشکل ہوگیا ہے بچوں کی پڑھائی اور صحت کے معاملات تو دور کی بات ہے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانے سے عاجز آچکے ہیں۔ترجمان نے مزید کہا بارڈر پر گاڑی لوڈ کرنے والے مزدور اور پنجگور کے گیٹوں میں گاڑی خالی کرنے والے مزدور بھی بے روزگار ہو چکے ہیں بارڑر پر قدغن لگانے کی وجہ سے مزدور طبقہ برائے راست متاثر ہوکر بے روزگار ہو گیا ہے بازار کی رونقیں ماند پڑگئی ہیں گیراج کا کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے نیو بازار کے گیراج کا چکر لگائیں تو رونا آتا ہے گیراج میں کوئی ایک بارڈر والی گاڑی کھڑی نہیں ملتی صرف تربت لین سے چلنی والی اکا دکا گاڑیاں ملتی ہیں جو کہ بارڑر پر کاروبار اور روزگارختم ہونے کی نشانی ہے۔ترجمان نے کہا بارڈر سے منسلک ادارے مزدور طبقے پر ترس کھائیں انہیں بے روزگار کرکے ان کے معصوم بچوں کی بددعائیں سر پر مت لیں نہوں نے کہا بارڑر سے منسلک اداروں کو چاہیئے وہ مزدور طبقے کو روزگار کے مواقع فراہم کریں اس وقت شدید مایوسی اور بے چینی پھیل رہی ہے تعلیم اور صحت کے گوناگوں مسائل نے مزدور طبقے کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے لھذا ادارے مزدور طبقے کو بے روزگاری سے نکالنے کے اقدامات کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں