کوئٹہ(آوازٹائمز)محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے زیرِ اہتمام کاونٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کے موضوع پر منعقدہ تین روزہ پالیسی ڈائیلاگ کے دوسرے روز مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین، افسران اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مینجنگ ڈائریکٹر بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (بی ٹیوٹا)حمود الرحمن نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبے کے نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہنر فراہم کرنے کے لیے مربوط، موثر اور عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو باعزت روزگار کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو خود کفیل بنانا اور انہیں بیرونِ ملک روزگار کے مواقع سے بھرپور استفادہ کے قابل بنانا ہے۔ حمود الرحمن نے مزید کہا کہ ہنرمند نوجوان نہ صرف اپنے اور اپنے خاندان کے معاشی حالات بہتر بنائیں گے بلکہ ملک کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کا بھی ایک اہم ذریعہ ثابت ہوں گے۔پالیسی ڈائیلاگ میں پروفیسر سید حسین حیدر سینیئر لیگل ایکسپرٹ، یو این او ڈی سی، چیف کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر دوست محمد اور ڈپٹی کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر عصمت اللہ خان بھی موجود تھے۔ شرکا نے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، تعلیم اور ہنر مندی کی طرف راغب کرنے کو انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ایک موثر حکمتِ عملی قرار دیا۔تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنا کر ایک پرامن، مستحکم اور ترقی یافتہ بلوچستان کی بنیاد رکھی جائے گی






