






قرآن پاک میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں کہ اقراء مطلب پڑھ،بنی نوع انسان کواللہ تعالیٰ نے علم کی فضلیت کی بدولت فرشتوں پر برتری دی یعنی کہ علم کو انسان کا زیور قراردیا گیا دنیا کی تخلیق سے لیکر آج تک علم کو وہ اہمیت و فضلیت حاصل ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی آنحضورﷺ کی آمد مبارک سے قبل انسان اس جاہلیت کے دلدل میں ڈوبا ہوا تھا جسے کسی بھی چیز کا علم نہیں تھا لفظ جاہلیت جتنا پڑھنے میں دل دماغ اور زبان پراثر انداز ہوتا ہے اتنے ہی اس کے عملی نقصانات بھی ہیں اللہ جس سے محبت کرتا ہے اس کو علم سے نوازتا ہے حتیٰ کہ فرشتوں پر بھی آدم کی عظمت کی وجہ علم ہے۔ (سورۃ البقرہ آیات 30 تا 33)فرشتوں نے عرض کیا کہ بے شک تو ہی علیم اور حکیم ہے اور آدم علیہ سلام کو وہ تمام علم عطاء فرمایاجوکہ فرشتوں کے پاس نہیں تھا اس لئے ہر چیز سے مقدم اللہ تعالیٰ نے علم کو رکھا اور بہت سی احادیث میں بھی اس کا ذکر آیا ہے کہ ہر مرد عورت مسلمان پر لازم ہے کہ وہ علم حاصل کرے جو حلال وحرام جائز ونا جائز کو صحیح طریقے سے جان سکے احادیث مبارکہ اور کلام اللہ کے احکامات کی روشنی میں یہ صاف صاف احکامات ہیں کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرناچاہیے کیونکہ علم کو انسان کی تیسری آنکھ بھی کہا گیا ہے آج ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز بھی علم ہے جنہوں نے علم کی بدولت ترقی کے وہ منازل طے کئے ہیں جس کی وجہ سے پوری دنیا ان کی محتاج ہوکررہ گئی ہے ہرقسم کے علم پر مہارت رکھنے والے اقوام نے ہمیشہ ترقی کے سفرمیں اپنی کامیابی کے وہ جھنڈے گاڑے ہیں جن کی کوئی مثال نہیں ملتی اس علم کے سفر میں مزید بہتری لانے کیلئے بھی بلوچستان حکومت عملی طور پر عمل پیرا ہے صوبے سے جہالت کے خاتمے کیلئے ٹھوس حکمت عملی کے تحت اقدامات کئے جارہے ہیں صوبے میں شرح خواندگی میں اضافے اور ناخواندگی میں کمی لانے کیلئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو چیف سیکریٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی صوبائی وزیر تعلیم نصیب اللہ مری سیکرٹری تعلیم عبدالروف بلوچ کے احکامات پر صوبے بھر میں داخلہ مہم تیزی سے جاری ہے حکومت کی تعلیم دوست پالیسیوں کے سبب بلوچستان سے بچوں کے سکولوں میں داخلہ مہم کے دور رس نتائج برآمد ہونگے کیونکہ ہمارے معاشرے میں بڑی تعدادمیں بچے محض چندوجوہات کی بناء پر سکولوں میں داخل نہیں ہوپاتے ان تمام مسائل کو سامنے رکھ کر حکومت بلوچستان نے والدین کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات کررہی ہے بچوں کو مفت تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ انہیں مفت کتابیں بھی فراہم کی جارہی ہیں تاکہ والدین کو ان کے اخراجات کو بھی برداشت نہ کرنے پڑیں نصیرآباد میں حالیہ سیلاب کے بعد دیکھا گیا ہے کہ بچوں کی سکولوں میں تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے یہ عمل بھی محکمہ تعلیم نصیرآباد کیلئے ایک دگنے چیلنج کی طرح ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے داخلہ مہم کے ساتھ ساتھ محکمہ تعلیم نصیرآباد کو ان بچوں کوبھی دوبارہ سکولوں کی جانب گامزن کرنا ہوگا جوسیلاب کے بعد سکولوں میں حاضرنہیں ہورہے ہیں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسیرحفیظ اللہ کھوسہ نے اس متعلق اپنے تمام ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسیران کا اجلاس طلب کرکے انہیں یہ ٹاسک دیا ہے کہ سکول چھوڑ جانے والے بچوں کے والدین سے رابطے قائم کئے جائیں تاکہ ان بچوں کو پھر سے تعلیم کی جانب راغب کیا جائے جبکہ محکمہ تعلیم کے احکامات پر نئے بچوں اور بچیوں کو سکولوں میں داخلہ کروانے کے حوالے سے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں گزشتہ دنوں محکمہ تعلیم نصیرآباد کے زیر اہتمام یونیسیف کے تعاون سے بچوں کو سکول میں داخلہ مہم کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نصیرآباد حفیظ اللہ کھوسہ کی نگرانی میں ایک ریلی کا بھی انعقاد کیا گیا ریلی میں ایجوکیشن سپورٹ پروگرام یونیسیف کے کوآرڈینیٹر مولا بخش جمالی انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی(آئی آر سی) کے کوآرڈینیٹر طیب علی یلانزئی سمیت مختلف سکولوں کے بچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ریلی ڈی ای او آفس نصیرآباد سے نکالی گئی ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بچوں کے سکولوں میں داخل کروانے کے حوالے سے تحریر درج تھیں ریلی نکالنے کا مقصد یہی تھا کہ عوام میں شعور بیدار کیا جاسکے اورریلی میں شریک تمام طلباء سے یہ بھی عہدلیا گیا کہ وہ اپنے اردگرد گلی محلوں میں موجود ان بچوں کو سکول میں داخل کروانے میں محکمہ تعلیم کے پیغام کو وسعت دیں اس کے ساتھ ساتھ طالبات میں بھی شعور آگاہی پیدا کرنے اور علم کی افادیت کے متعلق آئی آر سی کے تعاون سے اسمبلی ہال ڈیرہ مراد جمالی میں ایک سمینار کا انعقاد کیا گیا۔
(جاری ہے)
سیمینار میں سکول کی کثیرتعدادمیں طالبات شریک تھیں داخلہ مہم کے حوالے سے محکمہ تعلیم ضلع نصیرآباد کو حکومت کی جانب سے اس سال 13852 بچے بچیوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف دیا گیا ہے اس حدف کو پوراکرنے کیلئے سب سے پہلے عوام میں شعور آگاہی پیداکرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ جب تک لوگوں کو علم کی اہمیت وافادیت کے متعلق صحیح معنوں میں علم نہیں ہوگا تب تک وہ اپنے بچوں کو سکولوں میں داخل کروانے سے گریزاں ہونگے اور وہ محض چندروپوں کی خاطر اپنے بچوں کو محنت مزدوری کی جانب دھکیل دیتے ہیں والدین کا یہ عمل ناصرف اس بچے یا بچی کی عمربھرکیلئے جہالت کا سبب بنتا ہے بلکہ صوبے میں ناخواندگی کی شرح میں اضافے کا موجب بھی بن جاتا ہے عوام کو چاہیے کہ وہ حکومت بلوچستان کے ساتھ اپنے تعاون کو یقینی بنائیں پانچ سال کے ہر بچے اور بچی کو سرکاری اسکول میں داخل کروائیں تاکہ ایک پڑھا لکھا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے صوبائی حکومت بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کر رہی ہے غیر حاضر اساتذہ کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کا سلسلہ بھی جاری ہے یہ تمام اقدامات کرنے کا مقصد صوبے سے جہالت کا خاتمہ کرنا ہے کوئی بھی معاشرہ ترقی کرنا چاہے تو لازم ہے کہ اس معاشرے میں تعلیمی نظام موثر انداز میں رائج ہو موجودہ حکومت تعلیم کے حصول میں رکاوٹ کسی صورت برداشت نہیں کررہی ہے محکمہ تعلیم نصیرآباد ایجوکیشن سپورٹ پروگرام یونیسیف اورانٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کی جانب سے داخلہ مہم ایک ماہ تک جاری رہے گی تاکہ اسکول داخلہ مہم کے ذریعے زیادہ سے زیادہ تعداد میں ضلع بھر کے بچے اور بچیوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کروایا جاسکے اس وقت ضلع نصیرآباد میں 624 سرکاری اسکول بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں محکمہ تعلیم نصیرآباد ایجوکیشن سپورٹ پروگرام یونیسیف اور انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے تعاون سے اس سال ضلع بھر کے تمام اسکولوں کو ریڈنگ و رائٹنگ مٹیریل اور کتب کی فراہمی کو ہر اسکول تک یقینی بنارہا ہے مسلسل نگرانی کے ذریعے ہر بچے تک حکومت کی جانب سے فراہم کردہ مطلوبہ کتب اور دیگر ریڈنگ میٹریل کی فراہمی کا سلسلہ بھی جلد شروع کردیا گیا ہے اس کے علاوہ ایجوکیشن سپورٹ پروگرام یونیسیف کی جانب سے اسکولوں کی بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ضلع بھر کے مختلف سکولوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی واش روم کی بحالی اور اسکولوں کی مرمت کے منصوبوں کو والدین کمیونٹی کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا۔اس سے قبل یونیسیف گورنمنٹ سکولوں میں ریگولرطورپر سکولوں کی تعمیر ومرمت کا کام کررہا تھااوراس کے ساتھ ساتھ مختلف سکولوں کے اساتذاہ کو مزید احسن طریقے سے ٹریننگ کروارہا ہے نصیرآباد میں سیلاب کے دوان یونیسیف کی جانب سے ان بچوں اور بچیوں کو تعلیم دلانے کیلئے بھی موثر انداز میں اپنا کرداراداکرتارہا مختلف کیمپس میں ٹیمپریری لرنگ سینٹرز قائم کئے گئے اس وقت بھی یونیسیف کی جانب سے ضلع نصیرآباد میں 12 شیلٹر لیس سکولوں کی تعمیرومرمت کرکے متعلقہ کمیونٹی اور محکمہ ایجوکیشن نصیرآباد کے حوالے کردیا گیا تاکہ ان خستہ حال سکولوں کی وجہ سے بچوں کو تعلیم کے حصول میں مشکلات درپیش نہ آئیں یونیسیف مزید سکولوں کی تعمیرو مرمت کروائے گی اس تمام سکولوں میں آبنوشی،بیت الخلاء سمیت دیگر تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے حکومت بلوچستان کے داخلہ مہم میں یونیسیف بھی اپنا موثر اندازمیں کردار ادا کررہاہے تعلیم واحد ذریعہ ہے جس کی بدولت ہم ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں محکمہ تعلیم اور دیگر اداروں کی جانب سے سکولوں کی بہتری اور تعلیمی نظام کو مزید بہتر بنانے کیلئے اقدامات قابل ستائش ہیں ریلی کے دوران جو بچوں سے عہد لیا گیا کہ ان بچوں کو سکولوں میں داخل کروانا ہے جو تاحال داخل نہیں ہوسکے ہیں حالیہ سیلاب کی وجہ سے ضلع نصیر آباد کے مختلف اسکولوں میں بچوں کی تعداد میں کمی دیکھی جا رہی ہے ہمیں بھی بچوں کی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ان بچوں کو اسکول میں داخل کروانا ہوگا ان بچوں کے ساتھ ساتھ دیگر کمیونٹی پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے پڑوس کے بچوں کو سکولوں میں داخل کروانے میں اپنا کردار ادا کریں جو مختلف وجوہات کی بناء پر سکول میں داخل نہیں ہوپائے ہیں یونیسیف۔ آئی آر سی۔ سوسائٹی سمیت دیگر اداروں کے مدد سے جہالت کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں اور بچوں کو بہتر تعلیم سے ہمکنار کرنے کے لیے اساتذہ کو بھی ٹریننگ دلوائی جا رہی ہے ہمیں ملکر علم کی شمع کو روشن کرنا ہوگا تاکہ جہالت کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔حکومت بلوچستان کی جانب سے جہالت کے خاتمے کے حکومت کے ساتھ ساتھ این جی او سیکٹرز کا بھی کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے نصیر آباد ڈویژن میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی عمل کی دوبارہ بحالی اور نئے بچوں کے اسکول میں داخلہ مہم کے حوالے سے انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کی جانب سے ایجوکیشن پر کام جاری ہے بیک ٹو اسکول کیمپین کے حوالے سے پانچ ہزار بچوں کو دوبارہ اسکول میں داخل کروانے کی مہم جاری ہے ان بچوں میں ریڈنگ رائیٹنگ کا مٹیریل بھی سپلائی کیا جا رہا ہے آئی آر سی کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی بحالی اور تعمیر و مرمت کا کام کیا جارہا ہے ان اسکولوں میں بلیک بورڈ اسٹیشنری اور دیگر سامان کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے جبکہ نصیرآباد اور جعفرآباد کے اسکولوں کے چار ہزار بچوں میں سکول بیگ بھی تقسیم کئے جا چکے ہیں اسکولوں کے اساتذہ کو ٹریننگ دلانے کا عمل بھی جاری ہے آئی آر سی بچوں کی پروٹکشن کے لیے بھی کام کر رہی ہے حکومت بلوچستان کی جانب سے داخلہ مہم کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے آئی آر سی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے شعور و آگاہی کے لئے مختلف علاقوں میں سیمینارز بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔حکومت بلوچستان جس طرح علم کو گھر گھر پہنچانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے وہ قابل تحسین ہیں معاشرے کے تمام ذی شعور لوگوں کو چاہیے کہ وہ بھی حکومتی کاوشوں کو مدنظر نظر رکھ کر اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہم ایک پڑھا لکھا معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوسکیں اور ترقی یافتہ ملکوں کی صفوں میں شامل ہو کر ان کے ساتھ قدم ملا کر چلیں۔ اختر منگی انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نصیرآباد ڈویژن






