بلوچ ثقافت میں مسافروں اور ہمسائیوں کو قتل کرنا کہیں نہیں ہے، میرسرفراز بگٹی

کوئٹہ+ سبی (روزنامہ آواز ٹائمز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حقوق کے نام پر مسلط کردہ جنگ نے سب سے زیادہ بلوچوں کو ہی متاثر کیا ہے اور اس جنگ کا حقوق و محرومی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ محض ملک و عوام کو نشانہ بنانے کے لیے کی جانے والی دہشت گردی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سبی میں منعقدہ گرینڈ جرگہ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا وزیراعلی بلوچستان کے ہمراہ گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل ، کور کمانڈر 12 کور راحت نسیم احمد خان ، رکن قومی اسمبلی میاں خان بگٹی ، صوبائی وزیر انڈسٹریز اینڈ کامرس سردار کوہیار خان ڈومکی ، صوبائی وزیر کمیونیکیشن اینڈ ورکس سلیم کھوسہ ، رکن صوبائی اسمبلی عاصم کرد گیلو ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان ، ائی جی ایف سی نارتھ میجر جنرل عابد مظہر ، ائی جی پولیس محمد طاہر اور قبائلی عمائدین ، معتبرین کی کثیر تعداد بھی شریک تھی۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شرکاء سے خطاب میں مزید کہا کہ بندوق کے زور پر بلوچستان کو نہیں توڑا جا سکتا اور نہ ہی یہ منظم فوج کے ہوتے ہوئے ممکن ہے قبائلی مشران و سرداران معتبرین اور نوجوانان کے لیے یہ غور طلب ہے کہ وہ ان معاملات پر سوچ بچار کریں انہوں نے کہا کہ جس ملک کے زور پر یہ جنگ لڑی جا رہی ہے اس کا اپنا حشر تو 09 مئی کے واقعات کے بعد دنیا نے دیکھ لیا ہے تو ان سے امید رکھنا بے سود ہے ۔ وزیراعلی بلوچستان نے بلوچستان کی آزادی کا خواب دیکھنے والوں سے مزید کہا کہ وہ زمینی و جغرافیائی حقائق سے منہ نہ موڑیں بلوچستان کے اطراف میں واقع ہمسایہ ممالک بھی ہرگز اس آزادی کو قبول نہیں کریں گے۔ ایک طرف عدم استحکام سے دوچار ریاست ہے جبکہ دوسری جانب انتہا پسند سوچ کی حامل ریاست ، تو ایسے میں نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ پاکستان ہی بلوچستان کے روشن مستقبل کا ضامن ہے جو اسے پھلنے پھولنے ، اگے بڑھنے اور ترقی فراہم کرنے کے مواقع مہیا کرتا ہےاور اپ کی زبان، اپ کی معیشت اور ثقافت کا احترام کرتا ہے لہذا ہمیں اپنی پہلی پہچان پاکستان کو ہی رکھنا ہے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دشمن تشدد پر اکسانے سوشل میڈیا کے غلط استعمال، سوشل مینورنگ اور احتجاج ان چار عوامل کے ذریعے ملک و صوبے میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے اور ملک توڑنے کا خواہاں ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار لوگوں نے جام شہادت نوش کیا جس میں اکثریت عوام کی ہے دشمن عوام کو نشانہ بنا کر اپنے عزائم پورا کرنا چاہتا ہے بلوچ ثقافت میں مسافروں اور ہمسائیوں کو قتل کرنا کہیں نہیں ہے بلوچ کی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ہے تاریخ میں چاکر اور رند کی لڑائی ہمسایہ کے حق کے لیے لڑی گئی تھی ہم اپنے ابا و اجداد کو کل کیا منہ دکھائیں گے کہ ہم نے مسافروں، نائیوں کو قتل کیا ہے آج ہمارے نوجوانوں کو اپنی ثقافت کے حوالے سے شعور دینے کی ضرورت ہے سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے حوالے سے وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ کس طرح ہمارا نوجوان بغیر تحقیق کے محض میسج فارورڈ کر کے ریاست مخالف پروپیگنڈا کا حصہ بن رہا ہے اس پروپگنڈے کی جڑیں بھارت اور بعض دیگر ممالک میں ہیں جو انہیں ریاست مخالف سمت میں لے جاتے ہیں اور خود کش حملہ اور پیدا کیے جاتے ہیں ایک طرف حکومت ہے جو نوجوانوں کو اکسفورڈ و ہاورڈ یونیورسٹی تک رسائی فراہم کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف یہ ریاست مخالف قوتیں ایک استاد اور ایک وکیل کو دہشت گردی کی تاریکیوں میں دھکیل رہی ہیں اسی طرح ریاست مخالف قوتوں کا ایجنڈا ہے کہ سوشل مینورنگ کے ذریعے لوگوں کو سڑکوں پر لایا جائے اور انہیں ریاست مخالف احتجاج پر اکسایا جائے ایسے لوگوں کے ذریعے آزادی کی تحریک چلوائی جاتی ہے جو نہ صرف قومی پرچم بلکہ ائین پاکستان کی بھی پامالی کرتے ہیں جس کی کوئی بھی ریاست اجازت نہیں دیتی اور اسے کسی صورت میں بھی قبول نہیں کیا جا سکتا وزیراعلی بلوچستان نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان اقلیتوں ، خواتین ، ٹرانس جینڈرز اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہے اور ان کے لیے کئی منصوبے بجٹ میں شامل کیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ سبی ڈویژن کے لوگ محب وطن ہیں اور ہمیشہ دشمن کی سازشوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بلوچ خواتین کا احترام کرتی ہے، تاہم ریاست مخالف پروپیگنڈے میں ملوث خواتین کے لیے کسی قسم کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو معاشرے میں باعزت مقام دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے لیکن جو عناصر ملک دشمن سرگرمیوں میں شامل ہوں گے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
جرگہ سے گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے بھی خطاب کیا انہوں نے کہا کہ جرگوں کا یہ سلسلہ ژوب سے شروع ہوا تھا اور اج سبی تک پہنچا ہے جرگہ ہماری ثقافت کا اہم حصہ رہا ہے اور ہم اس کے ذریعے مسائل حل کرتے آئے ہیں انہوں نے کہا کہ جرگہ ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم مسائل پر کھل کر بات کریں گورنر بلوچستان کا کہنا تھا کہ ژوب میں بھی ریاست مخالف قوتوں نے لوگوں کو ورغلانے کی کوشش کی لیکن ہم نے لوگوں کو قائل کیا کہ وہ ریاست مخالف قوتوں کے اعلی کار نہ بنے وہاں کی عوام نے ہماری بات مانی اور انہیں مسترد کیا اج ژوب میں فتنہ الخوارج اپنی اخری سانسیں گن رہا ہے اور ژوب میں ترقیاتی کام زور شور سے جاری ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کبھی ہمارا دوست نہیں ہو سکتا ریاست مخالف پروپیگنڈا اسی کی ایماء پر چلایا جا رہا ہے ہندوستان نے شروع سے ہمیں قبول نہیں کیا وہ آج بھی ہمارے خاتمے کے در پہ ہیں لیکن اس کی توسیع پسندانہ خواہش کبھی بھی پوری نہیں ہوگی وہ آج بلوچستان کے لوگوں کو نئے نعرے آزاد بلوچستان سے بہکا رہا ہے جو اس کی بھول ہے گورنر بلوچستان نے اس امر پر زور دیا کہ ہمیں کسی کا بھی آلہ کار بننے سے اجتناب کرنا چاہیے سبی ڈویژن کے انتشار والے علاقوں میں ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں اور نوجوانوں کو ریاست مخالف قوتوں کے چنگل سے بچائیں ہمیں ژوب کی طرح یہاں کی عوام سے بھی قوی امید ہے کہ وہ ریاست مخالف قوتوں کو پنپنے نہیں دیں گے گورنر بلوچستان شیخ جعفر مند و خیل کا مزید کہنا تھا کہ بچوں ، بچیوں کا مستقبل پاکستان سے وابستہ ہے طلباء کے لیے یہاں فیس میں رعایت سمیت تمام سہولیات دی جا رہی ہیں اور کئی ٹریننگ پروگرامز جاری ہیں جو ان کے بہتر مستقبل میں معاون ہوں گے اسی طرح یہاں کی طلباء کو سکالرشپس بھی ملک کے دیگر طلباء کی نسبت زیادہ دی جا رہی ہیں۔ اور یہ ان طلباء کی بہت بڑی حوصلہ افزائی ہے جرگہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جرگہ میں اٹھائے گئے مسائل کہ حل کے لیے حکومت پرعزم ہے سبی تاریخی طور پر جرگہ کا مرکز رہا ہے انہوں نے کہا کہ یہ اکابرین کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی درست سمت میں رہنمائی کریں اور لوگوں کو سمجھائیں کہ پاکستان کی بقاء میں ہی ہماری بقاء ہے کور کمانڈر 12 کو راحت نسیم احمد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک اور یہ حکومتیں عوام کے لیے ہیں جس کا مقصد عوام کی خدمت ان کی خواہشات کے مطابق کرنا ہے وزیراعلی بلوچستان کی ہدایت کے مطابق ڈی سی سی کا نفاذ ہو چکا ہے اور حکومت ڈسٹرکٹ کی سطح پر تمام تر اختیارات کے ساتھ موجود ہیں اسی طرح حکومت امن و امان کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدام بی ایریاز کو اے ایریاز میں تبدیل کرنا ہے انہوں نے کہا کہ ڈی سی سی کے ذریعے اضلاع میں کھلی کچہری اور جرگے منعقد ہو رہے ہیں جن سے عوامی مسائل میں کمی ائے گی انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے تعاون سے امن و امان کی صورتحال میں مزید بہتری ائے گی اور صوبائی حکومت کے تعاون سے سبی کوئٹہ روڈ کو بھی چوڑا کیا جا رہا ہے جس سے عوامی مسائل میں یقینا کمی ائے گی۔سبی میں منعقدہ جرگے کے موقع پر عوام نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مختلف سوالات کیے جن کے جوابات انہوں نے تفصیل اور وضاحت کے ساتھ دیے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ محکمہ صحت میں تمام ڈاکٹروں کی بھرتیاں کی جائیں گی جبکہ ایک ہفتے کے اندر 30 سے زائد اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی بھرتی مکمل ہوگی۔ اس کے علاوہ سبی، تلی روڈ پر کام کا آغاز کیا جائے گا اور کوئٹہ، سبی شاہراہ کے لیے بھی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تعمیراتی منصوبوں میں معیار کو یقینی بنایا جائے گا اور ناقص کام کی صورت میں سخت کارروائی ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سیٹلمنٹ کے لیے تین ارب روپے سے زائد رقم رکھی گئی ہے۔ ایک طالب علم کی درخواست پر انہوں نے میر چاکر خان رند یونیورسٹی کو اگلے روز ہی بس فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ محکمہ تعلیم میں مسنگ پوسٹس کا مسئلہ بھی 10 دن کے اندر حل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ مزید برآں، یونین کونسلوں کے فنڈز جاری کیے جائیں گے جبکہ خواتین کے لیے ایک پارک تعمیر کیا جائے گا جس میں آئی ٹی سیکٹر اور لائبریری شامل ہوگی، اور یہ منصوبہ اسی سال مکمل کیا جائے گا۔ لڑکوں اور لڑکیوں کو آسان اقساط پر اسکوٹیاں فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔آخر میں وزیراعلیٰ نے سبی ڈویژن پر ڈاکومنٹری بنانے والے طلباء کے لیے آٹھ لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں