چمن بارڈر کی بندش سے تاجروں کو یومیہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے

چمن(اوازٹائمز)چمن پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو گئی ہیں اور یومیہ کروڑوں روپے کے نقصانات کا سامنا ہے۔چمن چیمبر آف کامرس کے ضلعی صدر حاجی نافع جان اچکزئی، حاجی قسیم خان اچکزئی، حاجی حمید اللہ، ملک محیب اللہ، حاجی اصف، حاجی گل شاہ اور دیگر تاجروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان کشیدگی کے نتیجے میں سرحد پر ایک ماہ سے زائد عرصہ سے دو طرفہ ٹریڈ مسلسل بند ہے۔انہوں نے بتایا کہ افغانستان سے تجارتی سامان کی ترسیل میں لاکھوں افراد وابستہ ہیں جو اب بے روزگار ہو چکے ہیں۔ چمن بارڈر پر روزانہ 20 کروڑ سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ فریش کا سیزن جاری ہے جس میں تاجروں کو بھاری نقصانات اٹھانا پڑ رہے ہیں۔مزید بتایا گیا کہ بارڈر کی بندش کے باعث ہزاروں پاکستانی تاجر افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں اور افغان تاجر پاکستان میں، جن کے ویزے بھی ختم ہو چکے ہیں اور وہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تجارت کو سیاست سے الگ رکھا جائے اور افغانستان سے جڑے تمام سرحدیں تجارتی سرگرمیوں کے لیے فوری طور پر کھول دی جائیں تاکہ دونوں ممالک کے تاجروں اور عوام کو ریلیف مل سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں