آئی ایم ایف معاہدے کے اثرات،اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی کا اضافہ

کراچی (روزنامہ آواز ٹائمز)پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قلیل المدت مالیاتی پیکیج کا معاہدہ طے پانے اورملکی معیشت میں بہتری آنے کی امید پر پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے مجموعی طور پر تیزی کا رجحان رہا اور کے ایس ای100انڈیکس 2700سے زاید پوائنٹس بڑھ گیا جس کی وجہ سے مارکیٹ 42ہزار،43ہزاراور44ہزار پوائنٹس کی3بالائی حدیں عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا اگر چہ مارکیٹ میں منافع کی خاطر فروخت کے دباؤ سے مندی کے اثرات بھی غالب آتے رہے مگر مجموعی طور پر اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیااور مارکیٹ کے سرمائے میں 3کھرب25ارب روپے سے زاید کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 63کھرب روپے سے بڑھ کر66کھرب روپے کی سطح سے تجاوز کر گیا جبکہ54.75فیصد حصص کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔اسٹاک ماہرین کے مطابق نیا کاروباری ہفتہ مارکیٹ کی درست سمت کا تعین کرے گا کیونکہ گذشتہ ہفتے آئی ایم ایف معاہدے سے جڑے توقعات نے مارکیٹ کو مثبت رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے کے دوران مجموعی طور پر تیزی کا رجحان دیکھا گیا اور کے ایس ای100انڈیکس 2754.62پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے انڈیکس 41452.69پوائنٹس سے بڑھ کر44207.31پوائنٹس ہو گیا اسی طرح 1167.75پوائنٹس کے اضافے سے کے ایس ای30انڈیکس 14636.72پوائنٹس سے بڑھ کر1804.47پوائنٹس پر جا پہنچا جبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 28111.03پوائنٹس سے بڑھ کر29547.62پوائنٹس پر بند ہوا۔کاروباری تیزی کی وجہ سے مارکیٹ کے سرمائے میں 3کھرب 25ارب50کروڑ 62لاکھ64ہزار645روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ 63کھرب69ارب47کرو26لاکھ36ہزار346روپے سے بڑھ کر 66کھرب94ارب97کروڑ89لاکھ991روپے ہو گیا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے زیادہ سے زیادہ15ارب روپے مالیت کے41کروڑ93لاکھ2ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ کم سے کم8ارب روپے مالیت کے 24کروڑ79لاکھ93ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے۔گذشتہ ہفتے تیزی کی وجہ سے ایک موقع پر انڈیکس 44511.52پوائنٹس کی بلند سطح کو چھو گیا تھا تاہم مندی کی لہر آنے سے انڈیکس43404.70پوائنٹس کی پست سطح تک گر گیا تھا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے مجموعی طور پر 1684کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے922کمپنیو ں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ،670میں کمی اور92کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام ر ہا۔کاروبار کے لحاظ سے ورلڈ کال ٹیلی کام،کے الیکٹرک لمیٹڈ،سنر جیکوپاک،ٹیلی کارڈ لمیٹڈ،فوجی فوڈز لمیٹڈ،پاک انٹر نیشنل بلک،حیسکول پیٹرول،پاک الیکٹرون، بینک آف پنجاب،بینک اسلامی پاکستان،پاک ریفائنری،میپل لیف،آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ،پاک پیٹرولیم،حب پاور کمپنی،ٹی آر جی پاک لمیٹڈ،سوئی نادرن گیس،یونٹی فوڈز لمیٹڈ،نشاط چونیاں پاور،بینک الفلاح،سونیری بینک لمیٹڈ،غنی گلوبل،ایونسن لمیٹڈ اور ٹی پی ایل پراپرٹیز سر فہرست رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں