ذرا جرآت کے ساتھ
میر اسلم رند
اونٹ سے کسی نے کہا تیرا اوپر والا (قرہ ) تیڑھا کیوں ہے ؟ اونٹ نے جواب دیا میری کون سے جگہ ٹھیک ہے کہ تمیں صرف میرا قر تیڑھا لگا ؟
حالیہ چند دنوں کے دوران صوبے کے اکثر محکموں میں تنخواہوں کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاج جاری ہے پہلے آئی ٹی یونیورسٹی کے اساتذہ نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا اور گزشتہ روز بلوچستان یونیورسٹی کے اساتذہ کرام بھی احتجاج کرتے پائے گئے حیرانگی کی بات اس وقت سامنے آئی جب گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ صاحب کے سامنے ایک ملازم نے خود کشی کرنے کی دھمکی دی جس صوبے میں تعلیم اداروں کے اساتذہ کرام تنخواہوں سے محروم ہو اس صوبے کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے ؟ ، اسی مالی بحران کے باوجود وزیر اعلی صاحب نے صوبے میں مشیروں کی فوج ظفر موج قائم کر رکھی ہیں پہلے سنا تھا ان کو کوئی مراحات نہیں دی جائیں گی لیکن اب سننے میں آیا ہے مشیر خاص صاحبان پروٹوکول اور لیویز سپاہیوں کا ڈیمانڈ بھی کر رہے ہیں آخر ھم بلوچستانی عوام کس طرف رواں ہیں بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی یہ حالت ہے آج 22 مارچ ہونے کو ہیں لیکن بازار میں کتابیں موجود نہیں عوام روزانہ کی بنیاد پر اسٹیشنری پر چار لگا لگا کر تھگ گئے ہیں لیکن سرکار کی طرف سے کتابیں مہیا نہ کی جا سکی سننے میں آیا ہے جب ٹھیکدار نے کتابیں چاپنے کا ٹھیکہ لیا تھا اس وقت کاغذ کی قیمت کم تھی لیکن اب کاغذ کی قیمت میں 100 فیصد اضافہ ہو چکا ہے خرکار کے لوازمات اس کے علاوہ ہیں اب یہ ڈیلے ٹیکٹس اس لئے استمال کیا جا رہا ہے تاکہ سرکاری اسکوں اور بازار میں کم سے کم کتابیں مہیا کی جا سکے اور ٹھیکدار کو بھی نقصان نہ ہو ایک بات ناظرین کو بتاتا چلو ٹیکسٹ بک بورڈ کا ٹھیکہ ہمیشہ سے منافع بخش ٹھیکہ رہا ہے میں اس شہر میں ایسے لوگوں کو پہچانتا ہوں جو اس ٹھیکداری کی وجہ سے ارب پتی بن چکے ہیں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں کتابیں ردی کی ٹوکری کی نظر ہو جاتے ہیں اگر سلیبس نہیں بدلہ تو ٹھیکدار کے ساتھ ساز باز کر کے اگلے سال ففٹی ففٹی کیا جاتا ہے اب آتے ہیں کوئٹہ شہر کا وہ دفتر جس سے کوئٹہ کے 45 لاکھ لوگ مستفید ہوتے ہیں صوبائی حکومت نے اسے بھی زوال پذیر بنا دیا ہے میٹروپولیٹن ایک نیم سرکاری ادارہ ہے جو سرکار اور اپنے ذرائع آمدن سے روزانہ کی بنیاد پر 45 لاکھ افراد کو سہولیات مہیا کرتا ہے آج سے کچھ سال پہلے اس کے اخراجات کا بہت بڑا حصہ اس کے اپنے آمدن سے پورا کیا جاتا تھا لیکن بلوچستان فورڈ اتھارٹی بننے کے بعد اس کے کئی ذرائع آمدنی بلوچستان فورڈ اٹھارٹی کو شفٹ ہو چکے ہیں مثلا پہلے کمرشل لائسنس فیس ، ملاوٹ کے خلاف جرمانہ شہر کے مختلف ہوٹلز اور بیکریوں ، لائیوں اسٹاک کا سلاٹر ھاوس ان سب کے جرمانے میٹروپولیٹن وصول کرتا تھا اب یہ ذرائع آمدن فوڈ اتھارٹی والے وصول کرتے ہیں اس کے علاوہ ڈپٹی کمشنر آفس کا اسٹاف مہنگائی اور تجاوزات کی مد میں جرمانے وصول کرتا ہے وہ بھی لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے مطابق وصول کئے جاتے ہیں اس جرمانوں پر بھی میٹروپولیٹن کا استقاق ہے لیکن اس جرمانے کو ڈپٹی کمشنر صاحب اور ان کا اسٹاف اپنے اوکانٹ میں جمع کرواتے ہیں تیسری سب سے بڑی آمدنی کا ذریعہ مشہوری کے سائن بورڈ تھے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان تمام سائن بورڈوں کو اتار لیا گیا جو ایک بڑا آمدن کا ذریعہ تھا اب میٹروپولیٹن سب کچھ چن جانے کے بعد اس کا ذریعہ آمدن صرف جی ایس ٹی کا پیسہ ہے جو انہیں مرکز کی طرف سے دیا جاتا ہے وہ اتنے پیسے ہوتے ہیں جو ماہانہ تنخواہوں کی مد میں بھی پورے نہیں ہوتے
پہلے صوبے کی طرف سے 3 کروڑ روپے ایمرجنسی اخراجات کے مد میں ہر ماہ دیئے جاتے تھے اب گزشتہ ایک سال سے وہ بھی نہیں دیئے جا رہے ہیں اس وقت میٹروپولیٹن کچرا اٹھانے والی گاڑیوں کا پٹرول، ٹھیکداروں کے ایمرجنسی میں کئے گئے کام کے پیسے اور روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے ملازمین کی مد میں 60 سے 70 کروڑ روپے قرضدار ہے ستم ظریفی دیکھیں گزشتہ تین دن سے میٹروپولیٹن کا بجلی کا کنیکشن بھی کاٹ دیا گیا ہے پورا دفتر اندھیرے میں ڈوب چکا ہے آفس ورک جام ہے اسکول کھل چکے ہیں لوگوں کو اپنے بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ چاہئے ہوتے ہیں لیکن وہ بھی نہیں بن رہے بچوں کے اسکولوں میں داخلے نہیں ہو رہے ہیں وزیر اعلی صاحب ان سب مسائل کا ذمے دار کون ہے کیا کسی کو اس کا احساس ہے ؟ حکومت کی طرف سے مسائل حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا عوام کو بے یار مددگار چھوڑ دیا گیا ہے .
خدارا تعلیم اداروں اور میٹروپولیٹن کو تباہی سے بچایا جائے اگر دیر ہو گئی یہ اداروں مزید تباہی کی طرف روا ہونگے.






