جنوبی وزیرستان (بیورو رپورٹ) اپر وزیرستان کی ایک لاکھ سے زائد کی آبادی کے لیے تحصیل لدھا میں قائم گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج ذمہ دار حکام کی مبینہ غفلت لاپرواہی اور عدم دلچسپی کے باعث گزشتہ سات سال سے ٹیچنگ اسٹاف سے محروم اور مکمل طور پر غیر فعال ہے بلکہ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر نئی دو منزلہ عمارت جو سینکڑوں کمروں پر مشتمل ہے خستہ حال ہوتی جا رہی ہے وانا سے شمالی وزیرستان جاتے ہوئے تحصیل بلڈنگ کے احاطے میں واقع گرلز ڈگری کالج کی جدید طرز تعمیر کا شاہکار خوبصورت بلڈنگ آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے اور لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتی ہے 2015ء میں گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا نے کالج کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس شاندار عمارت میں قائم کالج کو وطن عزیز پاکستان کے جدید شہروں کی طرح دور جدید کے تمام سہولیات سے آراستہ ہونے پر اسے وزیرستان میں ترقی کے ایک نئے باب اور سنگ میل سے تعبیر کیا تھا تاہم 2015ء سے لے کر تاحال ان سطور کی اشاعت تک یو اے ای کے تعاون سے بنائی جانے والی ایک لاکھ کی کثیر آبادی کے پسماندہ علاقے کا واحد گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج مکمل طور پر غیر فعال ہے تحصیل لدھا کی ایک لاکھ سے زائد کی آبادی میں ہزاروں لڑکیاں جدید تعلیم کے حصول کے لیے دوسرے شہروں میں اپنے گھروں سے سینکڑوں کلومیٹر دور ٹانک ڈی آئی خان میں زیر تعلیم ہیں جبکہ گھر کی دہلیز پر جدید تعلیم اور ڈگری کلاسز سے محروم ہیں نہ صرف زیر تعلیم بچیاں بلکہ ان کے والدین بھی ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے علاقوں میں تعلیمی اداروں کی غیر فعالی کے باعث رہنے کو ترجیح دیتے ہیں جن سے ایک طرف غریب والدین جو کہ کرایوں کی استطاعت نہیں رکھتے غربت کی چکی میں مزید پس کر کثرت گریہ پر مجبور کرتے ہیں تو دوسری طرف انہیں سخت گرمی کے موسم کا سامنا کرنا بھی پڑتا ہے جبکہ مکھیوں کی بہتات اور مچھروں کے کاٹنے سے ان کے بچے وبائی امراض کا شکار بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ ٹانک اور ڈی آئی خان میں جدید سہولیات کا فقدان ہے اور نئے موسم میں تغیر پذیری کی وجہ سے ہر سال نئی الیکٹرانک اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث غریب شخص ان کی قوت خرید کا محتمل نہیں ہو سکتا سوائے تعلیمی شرح بلند ہونے کے یہ علاقے جدید ترقی سے مکمل محروم ہیں۔






