تحصیل لدھا کا علاقہ وادی میدان تمام بنیادی ضروری سہولتوں سے محروم ہے

جنوبی وزیرستان (بیورو چیف/ابوت خان)ڈسٹرکٹ اپر جنوبی وزیرستان تحصیل لدھا کا نواحی علاقہ وادی میدان کی سات ہزار نفوس پر مشتمل آبادی آج کی جدید ترقی یافتہ دور میں بھی تمام بنیادی ضروری سہولتوں سے محرومی کے باعث حکام کے بلند و بانگ دعوؤں اور فاٹا مرجر کا منہ چڑا رہا ہے مقامی لوگوں کے مطابق اس جدید دور میں بھی گاؤں کے لوگ پانی جیسی عظیم نعمت خداوندی سے محروم ہیں اور آج بھی خواتین اور بچے دور چشموں سے پانی سے بھرے برتن سروں پر رکھ کر لاتے ہیں مذکورہ گاؤں میں نام کو تو سولر بیس ٹیوب ویلز موجود ہیں مگر ٹھیکیداروں کی ناقص میٹریل استعمال میں لانے کی وجہ سے پانی کا مسئلہ جوں کا توں موجود ہے ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے مذکورہ ڈگ ویلوں میں پرانے پائپس نصب کر دیے ہیں جن کی مقامی لوگ بار بار کی مرمت سے عاجز آ چکے ہیں پرانے پائپ لائنوں کی مرمت اور نئے پائپ لائن بچھانے کے ساتھ علاقے میں موجود پانی کے ٹینکیوں کی از سر نو تعمیر اور ساتھ میں سولر بیس کے ٹیوب ویلز کو سخت موسم میں بجلی کے سسٹم میں منتقلی سے مقامی لوگوں کے پانی کا دیرینہ مسئلہ حل کرنے میں مدد ملے گی اس طرح علاقے میں آب پاشی کے نظام کی عدم موجودگی سے سات ہزار نفوس کی آبادی پر مشتمل جنت نظیر وادی میدان میں لاکھوں ایکڑ اراضی ناقابلِ کاشت اور بنجر پڑی ہے اور آلو کے لیے مشہور اس زرخیز زمین کے باسی اپنی ضروریات زندگی پوری نہیں کر سکتے بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے لیے موضع سلطانہ اور کوٹ لنگرخیل سے برساتی نالوں کا رخ میدان کی طرف موڑنے کے ساتھ یہاں زمینوں کے لیے الگ ٹیوب ویل اور نالے کے تعمیر کی اشد ضرورت ہے اسی طرح گاؤں میدان سے بجلی کے جو ٹرانسفارمر چوری کیے گئے تھے چور گرفتار ہونے کے باوجود مال مسروقہ بر آمد نہیں کیا جا سکا اور گزشتہ کئی مہینوں سے علاقہ میدان تاریکی میں ڈوب چکا ہے بجلی کی عدم موجودگی سے مقامی لوگوں بالخصوص گھریلو خواتین کو امور خانہ داری انجام دینے میں ناقابلِ بیان مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے دوسری طرف علاقے میں سوختنی لکڑیاں بھی ناپید ہو چکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں