بلوچستان کی ترقی پاکستان کی مجموعی خوشحالی سے جڑی ہے، صوبوں میں ہم آہنگی مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے

اسلام آباد،کوئٹہ(آوازٹائمز/انعام اللہ اچکزئی)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیشنل ورکشاپ بلوچستان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان علاقے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہ واحد صوبہ ہے جو رضاکارانہ طور پر پاکستان میں شامل ہوا۔ بلوچستان کے عوام کشادہ دل، مہمان نواز اور اپنی ثقافت و اقدار پر فخر کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالی نے اس صوبے کو قیمتی معدنی وسائل سے نوازا ہے جو پوری قوم کا خزانہ ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا، جس کے باعث ترقی کا سفر متاثر ہوا۔ صوبے کی جغرافیائی ساخت ترقی کے راستے میں چیلنج بنی ہوئی ہے، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو ملک کی ترقی میں برابر کا شریک بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام صوبے ایک خاندان ہیں اور وفاق کی اصل روح باہمی قربانی، اتحاد اور بھائی چارے میں پوشیدہ ہے۔شہباز شریف نے 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پنجاب نے تاریخی قربانی دی تھی اور بلوچستان کو 10 فیصد حصہ دینے کی حمایت کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے صوبوں کے درمیان فاصلے پیدا کیے، حالانکہ 2018 میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کردیا گیا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ خطرہ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے قیام امن کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ ملک میں امن، اتفاق اور اتحاد ہی ترقی کی ضمانت ہیں۔ بلوچستان کے عوام ہمارے بھائی ہیں، انہیں ترقی کے عمل میں ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں دوردراز علاقوں تک بجلی، پانی اور سڑکوں کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے۔ مضبوط سڑکوں کے نیٹ ورک کے بغیر تعلیم، صنعت اور روزگار کی ترقی ممکن نہیں۔ کراچی تا چمن شاہراہ پر حادثات معمول بن چکے ہیں جسے خونی روڈ کہا جاتا ہے، اب اسے امن کی سڑک میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے پر تقریبا 300 ارب روپے لاگت آئے گی۔انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر تیل کی قیمتیں کم ہونے سے 180 ارب روپے بچت کا امکان پیدا ہوا، جسے شاہراہ کی توسیع پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ صوبائی ہم آہنگی اور یکجہتی کو فروغ دیا جا سکے۔وزیراعظم شہباز شریف نے آخر میں کہا کہ بلوچستان سمیت تمام صوبوں کی ترقی پاکستان کی مجموعی خوشحالی سے منسلک ہے۔ ہمیں محبت، اخوت اور یقین کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا، کیونکہ ہم سب پہلے پاکستانی ہیں اور بعد میں صوبوں کے مکین۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ کسی بھی انتشار یا بدامنی کا مل کر مقابلہ کیا جائے گا تاکہ پاکستان ایک عظیم اور متحد ملک کے طور پر ترقی کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں