کوئٹہ (ڈیلی آواز ٹائمز/نیوز ڈیسک)جھالاوان ہاؤس کوئٹہ میں (پندرانی) زہری اور لہڑی قبائل کے درمیان گزشتہ کئی سال سے جاری خونی تنازعے کا قبائلی جرگے کے ذریعے خوش اسلوبی سے تصفیہ کر دیا گیا۔ تنازعے کے خاتمے میں صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری اور صوبائی مشیر محنت و افرادی قوت سردار بابا غلام رسول عمرانی نے اہم کردار ادا کیا تفصیلات کے مطابق چند سال قبل نصیرآباد کے رہائشی محراب (پندرانی) زہری کو ایک معروف ٹرانسپورٹ کمپنی میں کام کے دوران قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد دونوں قبائل کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا اور یہ معاملہ گزشتہ کئی سال سے چلا آ رہا تھا۔ محراب (پندرانی) زہری کے لواحقین نے پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء چیف آف جھالاوان نواب ثناءاللہ خان زہری سے رابطہ کرکے معاملے کے حل کے لیے انہیں اپنا اختیار دیا۔ سابق وزیراعلی نواب ثناءاللہ خان زہری نے اپنی سیاسی مصروفیات کے باعث صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری کو فریقین اور ثالثین کا مؤقف سننے کے بعد حق و انصاف پر مبنی فیصلہ کرنے کی ہدایت کیباس سلسلے میں جھالاوان ہاؤس کوئٹہ میں نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری کی سربراہی میں قبائلی جرگہ منعقد ہوا، جس میں فریقین اور ثالثین نے شرکت کی۔ جبکہ جرگہ میں قبائلی عمائدین سردارزادہ میر ظفر علی ساسولی، نوابزادہ میر شعیب زہری، میر علی اکبر جتک، میر محمد عالم موسیانی اور دیگر شریک تھے تنازعے کے حل کےلئے منعقدہ جرگے میں صوبائی مشیر محنت و افرادی قوت سردار بابا غلام رسول عمرانی نے فریقین کی جانب سے جبکہ میر غازی خان (پندرانی) زہری، سردار محمد جان (پندرانی) زہری، سردار فقیر محمد (پندرانی) زہری، حاجی فیض محمد (پندرانی) زہری اور ڈاکٹر جاوید خان (پندرانی) زہری بطور ثالث شریک ہوئے لہڑی قبیلے کی جانب سے حاجی دولت خان لہڑی، میر حکمت لہڑی اور میر ہزار خان لہڑی سمیت قبائلی عمائدین نے جرگے میں شرکت کی۔ جرگے نے تمام ثالثین اور فریقین کا مؤقف تفصیل سے سننے کے بعد محراب (پندرانی) زہری کے قتل اور عزت کے معاملے میں لہڑی قبیلے پر خون ثابت ہونے کا فیصلہ شہید محراب (پندرانی) زہری کے لواحقین کے حق میں سنایا اور فریقین کو لواحقین معاونت کرنے کی ہدایت کی صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری نے جرگے کا فیصلہ سناتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان جاری تنازعے کا خاتمہ کرایا، جس کے بعد دونوں جانب کے قبائلی عمائدین ایک دوسرے سے بغل گیر ہوگئے اور فریقین نے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے آئندہ بھائی چارے اور امن کے ساتھ رہنے کا عزم کیا جرگے سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری نے کہا کہ بلوچستان میں منعقد ہونے والے قبائلی جرگے دیرینہ تنازعات کے حل اور معاشرے میں پائیدار امن کے قیام کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔ قبائلی تنازعات نے بلوچستان کو بے حد نقصان پہنچایا ہے، اس لیے ایسے معاملات کو افہام و تفہیم، روایتی جرگہ نظام اور باہمی رضامندی سے حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ جرگوں کے ذریعے قبائلی تنازعات کا حل بلوچستان کی صدیوں پرانی روایت ہے میرے آباو اجداد نے بھی بلوچستان میں جاری قبائلی اور خونی تنازعات کے خاتمے اور امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، اس روایت کو مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری نے صوبائی مشیر محنت و افرادی قوت سردار بابا غلام رسول عمرانی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عمرانی قبیلے کے سربراہ نے اس خونی تنازعے کے تصفیے میں انتہائی اہم اور مثبت کردار ادا کیا، جس کے باعث فریقین کے درمیان کئی سال سے جاری کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہوا۔






