گڈانی(روزنامہ آواز ٹائمز /شاہجہان ڈگارزئی) گڈانی اور حب منشیات فروشوں کا گڑھ بن گیا، سرعام فروخت جاری ہے،تفصیلات کے مطابق گڈانی سمیت حب کا دارو ہوٹل منشیات فروشوں کا گڑھ بن گیا، چرس، ہیروئن، گٹکے کی سرعام فروخت عروج پر، نوجوان نسل تیزی سے نشے جیسی لعنت میں مبتلا، پولیس کی چشم پوشی گڈانی و حب میں موجود دیگر محلوں میں منشیات سرعام فروخت ہونے لگی جبکہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے پابندی کے باوجود مضر صحت زہریلا گٹکا ماوا بھی کھلے عام کیبنوں پر بکنے لگا.
مذکورہ علاقوں میں چرس، ہیروئن بھاری رقم کے عوض سرعام فروخت ہونے لگی جس کے باعث اسٹوڈنٹس اور نوجوان نسل تیزی سے نشے جیسی لعنت میں مبتلا ہورہے ہیں جبکہ متعدد افراد نشہ استعمال کرنے کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دو بیٹے سینکڑوں نوجوانوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی، نوجوان نسل کا مستقبل داؤ پر لگ گیا۔ منشیات کے پیسے پورے نہ ہونے کے باعث متعدد نوجوان چوری اور ڈکیتیوں جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ گڈانی سمیت حب و دیگر علاقوں میں کرائم مسلسل بڑھتا جا رہا ہے.
اس موذی مرض میں مبتلا ہونے والے نوجوان کے والدین میں شدید غم و غصہ پاپا جا رہا ہے جبکہ زہریلا، گٹکا ماوا بلاخوف کیبنوں اور دکانوں پر سرعام فروخت ہورہا ہے، پولیس نے قانونی کارروائی کرنے کے بجائے منشیات فروشوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے منشیات تیزی سے استعمال ہونے کے باعث علاقہ مکین، سیاسی، سماجی رہنمائوں میں تشویش کی لہر پائی جارہی ہے جبکہ نوجوانوں کو موت کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ ان سماج دشمن اور موت کے کاروبار کو فوری بند کروایا جائے۔
گڈانی اور حب کے مکینوں نے آئی جی بلوچستان و دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ منشیات فروشوں کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے اور ہمارے علاقے کو منشیات سے مکمل طور پر پاک کیا جائے.






