اسلام آباد(آوازٹائمز)چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، سماجی انصاف اور جمہوری استحکام کی اساس ہوتی ہے، اور تعلیم پر سرمایہ کاری کو خرچ نہیں بلکہ ریاستی سطح کی طویل المدتی قومی ذمہ داری سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات ملتان میں بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں اساتذہ اور تعلیمی برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے جنوبی پنجاب میں اعلی تعلیم کے فروغ، جامعات کے کردار اور ماضی میں کیے گئے تعلیمی اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اپنے پورے عوامی کیریئر میں، خواہ وہ وزیر اعظم رہے ہوں، وفاقی وزیر ہوں یا چیئرمین سینیٹ، انہوں نے ہمیشہ تعلیم کو قومی ترقی، سماجی انصاف اور جمہوری استحکام کی بنیاد سمجھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم پر سرمایہ کاری دراصل قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی جنوبی پنجاب میں اعلی تعلیم کا ایک اہم اور باوقار ادارہ ہے، جو خطے میں علم، تحقیق اور سماجی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1975 میں پارلیمنٹ کے ذریعے اس یونیورسٹی کا قیام جنوبی علاقوں میں تعلیمی مساوات کے فروغ کے لیے ایک دور اندیش قومی فیصلہ تھا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ 2008 سے 2012 کے دوران، شدید معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود، سرکاری جامعات کو مضبوط بنانے اور اعلی تعلیم تک رسائی بڑھانے پر توجہ دی گئی۔ اس تناظر میں بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے اساتذہ کے لیے 100 پی ایچ ڈی اسکالرشپس دی گئیں، جن کی مجموعی مالیت ایک ارب روپے سے زائد تھی، تاکہ نوجوان فیکلٹی اعلی تعلیم حاصل کر کے بہتر محقق اور اساتذہ بن سکیں۔انہوں نے بتایا کہ ملتان میں تعلیمی اور ادارہ جاتی انفراسٹرکچر کے لیے نمایاں گرانٹس فراہم کی گئیں، جن کے تحت یونیورسٹی گلشن کالج اور سرائیکی ایریا اسٹڈی سینٹر قائم کیے گئے، جو آج بھی تعلیمی اور ثقافتی سطح پر خطے کے لیے اہم اثاثے ہیں۔یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ قانونی تعلیم کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ طلبہ اور عملے کے لیے ہاسٹلز، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں تاکہ کیمپس لائف بہتر بنائی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد یہ تھا کہ کوئی بھی باصلاحیت اور مستحق طالب علم وسائل یا رسائی کی کمی کے باعث تعلیم سے محروم نہ رہے۔چیئرمین سینیٹ نے زور دیا کہ جامعات کو اپنے اپنے علاقوں میں علم، تحقیق، جدت اور سماجی ترقی کا مرکز بننا چاہیے، تاکہ جنوبی پنجاب اور ملتان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے لیے اپنے گھروں سے دور نہ جانا پڑے






