سرطان کے خلاف جدوجہد صرف ایک طبی چیلنج نہیں بلکہ یہ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے، وزیراعظم

اسلام آباد(آوازٹائمز) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی یوم سرطان کے موقع پر کہا کہ آج ہم دنیا کے ساتھ ہم آواز ہو کر اس موذی مرض سے متاثرہ تمام افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان پر اس مرض کے بوجھ کو کم کرنے کے عزم کو دہرارہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ سرطان کے خلاف جدوجہد صرف ایک طبی چیلنج نہیں بلکہ یہ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے، جس میں ہمدردی، حوصلے اور اجتماعی کاوشیں ضروری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے پالیسی اصلاحات اور وسیع تر شراکت داریوں کے ذریعے، بالخصوص گزشتہ ایک برس میں، سرطان کے خلاف قومی ردعمل کو مزید مؤثر، مربوط اور مضبوط بنایا ہے۔ سرکاری اور نجی شعبے کے تعاون سے پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے مریضوں کو زندگی بچانے والے علاج کی فراہمی اور علاج میں مالی و جغرافیائی رکاوٹوں کو کم کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت سرطان کی روک تھام کے لیے ایک جامع قومی حکمت عملی تیار کرنے میں بھی سرگرم ہے تاکہ اجتماعی قومی صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت قومی اور صوبائی سطح پر اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے، خاص طور پر کمزور اور محروم طبقات کی مدد کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی اصلاح، تحقیق اور سائنسی شواہد پر مبنی فیصلوں پر سرمایہ کاری حکومتی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ سرطان کے پھیلاو میں روک تھام اور عوام میں صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے کمیونٹیز، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور ذرائع ابلاغ کی فعال شمولیت ضروری ہے۔وزیراعظم نے اس خصوصی دن پر اپیل کی کہ تمام متعلقہ فریقین اس موذی مرض کے خلاف انسانی صحت کے تحفظ کے اس مشترکہ مشن میں متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ باہم تعاون اور ہم آہنگی سے ہم سرطان کی بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور ہمدردانہ نگہداشت کو یقینی بنا سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور مضبوط پاکستان کی ضمانت دے سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں