کوئٹہ، مرے ہوئے اونٹوں کی گوشت آخر کار ڈھونڈ لی

کوئٹہ (روزنامہ آواز ٹائمز) مرے ہوئے اونٹوں کے گوشت کی مبینہ طور پر فروخت کا معاملہ، وائرل ویڈیو سامنے آنے پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے معاملہ کا فوری نوٹس ، ابتدائی مرحلے میں کچلاک جبکہ بعدازاں سرانان (ضلع پشین) میں گوشت کی دکانوں کی چیکنگ ، کچلاک و سرانان بازار میں قائم میٹ شاپس پر مردہ اونٹوں کے گوشت کی فروخت کے شواہد نہیں ملے تاہم اونٹوں کے مالک کے مطابق بیمار اونٹوں کو ذبح کرکے گوشت تحصیل سرانان کے مختلف علاقوں کے مقامی لوگوں (غریبوں) میں مفت تقسیم کیا گیا ۔ اسسٹنٹ کمشنر پشین کے ہمراہ مزید معلومات حاصل کرنے پر اونٹوں کے مالک کی نشاندہی پر مذکورہ گوشت کا کچھ حصہ (تقریباً 20 سے 25 کلو گرام) ایک مقام سے برآمد کرکے موقع پر تلف کردیا گیا جبکہ معاملہ سے متعلق معلومات و حقائق کی تصدیق کیلئے مزید قانونی کارروائی شروع کردی گئی ۔ واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک ویڈیو گردش کررہی تھی جس پر فوری رسپانس دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی محمد نعیم بازئی کی ہدایت پر بی ایف اے کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں ، انسپیکشن ٹیموں نے پہلے کچلاک اور بعدازاں سرانان بازار میں مرے ہوئے اونٹوں کے گوشت کی مبینہ فروخت سے متعلق حقائق کا جائزہ لیا اور علاقوں میں موجود میٹ شاپس کی تفصیلی چیکنگ کی تاکہ مبینہ مضر صحت گوشت کی فروخت کو روکا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں