کوئٹہ (جہانگیرخان/موسیٰ مشوانی) میں نے جس راستے کا انتخاب کیاتھا وہ غلط تھا، ہمارے مسائل کا پْرامن حل ممکن ہے،بلوچستان کے حقوق کی جنگ صرف آئینی اور سیاسی حوالے سے ممکن ہے، ہمیں امید ہے کہ ریاست ماں کا کردار ادا کرتے ہوئے اصلاح کا موقع دے گی،کالعدم بی این کے سربراہ و سابق عسکریت پسند گلزار شنبے کو پہلی بار میڈیا کے سامنے پیش کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت اس موقع پر صوبائی وزیرداخلہ ضیاء اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ
لڑائی سے ہونے والے نقصان کا ادراک کرنا چاہیے قومی دھارے میں شامل ہونے والوں کو روزگا ر فراہم کیا جانا چاہیے ،بلوچستان بہت پیچھے رہ گیا ہے سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے ایک بارپھر مطالبہ کرتا ہوں کہ ریاست ہمیں اصلاح کا موقع دے،مسائل بات چیت سے حل کیے جا سکتے ہیں، ریاست اور اداروں سے کھیلنے والوں کو کوئی رعایت نہیں دی جا سکتی
کالعدم بی این کے سربراہ و سابق عسکریت پسند گلزار شنبے کو پہلی بار میڈیا کے سامنے پیش کر دیا گیا، کالعدم تنظیم کے سابق کمانڈر گلزار امام شنبے کا کہنا ہے کہ میں نے جس راستے کا انتخاب کیاتھا وہ غلط تھا، ہمارے مسائل کا پْرامن حل ممکن ہے،بلوچستان کے حقوق کی جنگ صرف آئینی اور سیاسی حوالے سے ممکن ہے، ہمیں امید ہے کہ ریاست ماں کا کردار ادا کرتے ہوئے اصلاح کا موقع دے گی۔کوئٹہ میں وزیرِ داخلہ بلوچستان ضیائ اللّٰہ لانگو کے ہمراہ کالعدم تنظیم کے سابق کمانڈر گلزار امام شنبے نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ ریاستی اداروں کو بلوچستان کے مسائل کا ادراک ہے، وہ سنتے ہیں، لڑائی میں اپنا وقت ضائع نہ کریں بلوچستان میں دونوں جانب سے جتنے بھی لوگ شہید ہوئے اس پر معافی کا طلب گار ہوں۔ میں جس راستے پر تھا وہ بالکل غلط تھا ، بلوچستان کے حقوق کی جنگ صرف آئینی اور سیاسی حوالے سے ممکن ہے بلوچ طالبعلم صوبے کی ترقی و خوشحالی کے لیئے کام کریں۔ بلوچستان پیچھے رہ گیا ہے صوبے میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے ،ہمارے مسائل کا پرامن حل ممکن ہے اور یہ مسائل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہیں ،ہمیں امید ہے ریاست ماںکا کردار ادا کرتے ہوئے اصلا ح کا موقعہ دیگی15سال مسلح ر ہ کر بلوچستان کے حقوق کیلئے جدوجہد کی،بلوچستان میں دونوں اطراف سے شہید ہونیوالوں کے لواحقین سے معافی مانگتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاستی اداروں کو بلوچستان کے مسائل کا ادراک ہے، سنتے ہیں ۔ہمیں چاہئے کہ لڑائی میں اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ میر ی کوشش ہے کہ باہر بیٹھے لوگوں کو واپسی کیلئے قائل کروں ، بلوچ مسلح جدو جہد کو بیرونی سپورٹ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مسائل کا پرامن حل ممکن ہے ہمیں امید ہے کہ ریاست ہمیں اصلاح کرنے کا موقع ضرور فراہم کر یگی میری گزارش ہے کہ لڑائی میں وقت ضائع ہ کیا جائے میں نے جس راستے کا انتخاب کیا تھا وہ درست نہیں تھا لڑائی سے ہونے والے نقصان کا ادراک کرنا چاہیے قومی دھارے میں شامل ہونے والوں کو روزگا ر فراہم کیا جانا چاہیے بے روزگاری کے باعث لوگ پیسوں کیلئے اس طرح کی تنظیموں کوجوائن کرلیتے ہیں اپنے لوگوں کیلئے راستہ نہیں کھولیں گے تو نقصان ہوگا دونوں جانب سے جتنے بھی لوگ شہید ہوئے اس پر معافی کا طلب گار ہوں بلوچستان کے حقوق کی جنگ آئینی اور سیاسی طریقے سے ہی ممکن ہے ہم نے بغیر سوچے سمجھے لڑائی کا راستہ اختیار کیا جس پر شرمندہ ہیں ۔گلزار شمبے نے کہا کہ دنیا میں اصول ہے جہاں جنگ ہوتی ہے وہاں حقوق سب سے پہلے آتے ہیں بلوچ طالبعلم لڑائی میں وقت ضائع کرنے کی بجائے آئینی و سیاسی راستہ اختیار کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کیلئے بلوچ عوام نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں مگر بلوچستان ترقی میں باقی تمام صوبوں سے بہت پیچھے اور پسماندہ ہے یہاں پر فنڈز کا صحیح استعمال نہیں کیا گیا جس سے احساس محرومی میں بے پناہ اضافہ ہوا بلوچستان آج جن مسائل کا شکار ہے اس کے ذمہ دار سب ہیں بلوچستان بہت پیچھے رہ گیا ہے سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے ایک بارپھر مطالبہ کرتا ہوں کہ ریاست ہمیں اصلاح کا موقع دے اور بلوچستان کے مسائل حل کرنے اور بلوچ عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کیلئے کردار ادا کرے اور ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں ۔اس موقع پر وزیرِ داخلہ بلوچستان ضیاء اللّٰہ لانگو نے کہا کہ مسائل بات چیت سے حل کیے جا سکتے ہیں، ریاست اور اداروں سے کھیلنے والوں کو کوئی رعایت نہیں دی جا سکتی۔






