کوئٹہ(روزنامہ آواز ٹائمز)بلوچستان میں مالی بحران برقرار،صوبے کی سرکاری جامعات بلوچستان یونیورسٹی اور بیوٹمزکے اساتذہ سراپااحتجاج ہیں صوبائی حکومت کہتی ہے کہ وفاق صوبے کا 100 ارب روپے سے زائد کا مقروض ہے۔ وفاقی حکومت گوادر پورٹ، پاکستان پیٹرولیم، ریکوڈک سمیت دیگر منصوبوں سے اربوں روپے کی کمائی کرتی ہے لیکن صوبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا نہیں کرتی۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں مالی بحران خاتمہ نہ ہوسکا، بلوچستان کی دو بڑی جامعات میں فنڈز کی قلت کے باعث اساتذہ اور دیگر عملے کو تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی۔
علاوہ ازیں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے اہم شہروں میں گزشتہ مالی سال میں ایک بھی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2023 24 کے بجٹ میں بلوچستان کو ترقیاتی منصوبوں کی مد میں 248 ارب روپے ملنے کا امکان ہے، تاہم اس غریب صوبے حالت اس رقم سے تبدیل کرنا ممکن نہیں۔دوسری جانب صوبائی وزیر خزانہ انجینئر زمرک اچکزئی کے مطابق وفاق کا رویہ صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا ہے۔ بارہا صوبے کی مالی مشکلات سے متعلق وفاق کو آگاہ کیا گیا لیکن ان کی سرد مہری نے صوبائی حکومت کو اس نہج پر لا چھوڑا ہے کہ ہمیں اپنا حق مانگنے کے لیے بھی احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔زمرک اچکزئی کہتے ہیں کہ صوبے کے زیادہ تر منصوبے وفاقی نوعیت کے ہیں، صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے ہمیں اسلام آباد کی جانب دیکھنا پڑتا ہے، وفاق کی دلچسپی صوبے میں نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ترقیاتی منصوبے مکمل نہیں ہو پاتے جس کی وجہ سے عوام آج بھی پسماندگی کا شکار ہیں۔






