ملک میں کئی ہزار ارب روپے کی ٹیکس چوری ہوتی ہے، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف

اسلام آباد(روزنامہ آواز ٹائمز)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ملک میں کئی ہزار ارب روپے کی ٹیکس چوری ہوتی ہے، صرف دو وزارتوں کا گردشی قرضہ 4000 ارب روپے ہے، اگر ہم مستقل تبدیلی چاہتے ہیں تو نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کرنا ہو گی یا انہیں بند کرنا ہو گا۔خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی تارکین وطن کی مٹی کی محبت سے سرشار ہیں، وہ عمران خان کے کہنے پر ترسیلات زر بھجوانا بند نہیں کریں گے کیونکہ انہوں نے اسی مٹی میں دفن ہونا ہے، جو لوگ باہر بیٹھ کر اپنے ملک کے خلاف سازشیں کرتے ہیں وہ اپنے آباؤ اجداد کی تدفین کے لئے یہاں آتے ہیں اور اس کے بعد جائیدادیں بیچ کر انہی ممالک میں چلے جاتے ہیں جن کی وفاداری کا حلف اٹھایا ہوتا ہے، ریئل اسٹیٹ میں 500 ارب روپے کا ٹیکس چوری ہوتا ہے، 9 مئی کو پاکستان کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کیا گیا، دفاعی اثاثوں پر حملہ آور پاکستانی نہیں ہو سکتے، اس ملک کو درپیش بیماریوں کا علاج عالمی مالیاتی اداروں یا دوست ممالک کے پاس نہیں بلکہ ہمارے اپنے پاس ہے، عدلیہ ملک کے ساتھ حکم امتناعی کے نام پر جو کر رہی ہے اس کی خود احتسابی کرے۔بدھ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2023-24 کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ 75 سال میں بنیادی تبدیلیاں لانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے، موجودہ معروضی حالات میں آئندہ وفاقی بجٹ میں عوام کو ہر ممکنہ سہولیات کی فراہمی کی کوشش کی گئی ہے، اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں