اسلام آباد(روزنامہ آواز ٹائمز)بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)آج سے بینظیر کفالت کی چوتھی سہ ماہی قسط جاری کرے گا۔ وفاقی حکومت نے رواں سال کے شروع میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں 25 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد چوتھی سہ ماہی قسط 9000 روپے ہو گی۔بینظیر کفالت کے علاوہ بینظیر تعلیمی وظائف کی جنوری تا مارچ قسط بھی 6.7 ملین سکول جانے والے ایسے طلبا میں تقسیم کی جا رہی ہے جن کی سکول میں حاضری کم از کم 70 فیصد ہے۔اس بار رقم کی ادائیگی پورے ملک میں قائم 1559 خصوصی طور پر منعقد کیمپ سائٹس کے ذریعے کی جائے گی۔ کیمپ سائٹس کے ذریعے وظیفے کی تقسیم کا مقصد مستحقین کو سہولت فراہم کرنا اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ اس دفعہ ایچ بی ایل اور بینک الفلاح کے اے ٹی ایم کے ذریعے ادائیگی کی فراہمی دستیاب نہیں ہوگی اور نہ ہی بی آئی ایس پی کے قائم کردہ کیمپ سائٹ کے باہر پی او ایس پر کوئی ادائیگی کی جائے گی۔بینظیر کفالت کے 90 لاکھ مستحق خاندانوں میں تقریبا 81 ارب روپے تقسیم کیے جائیں گے جبکہ مزید 16 ارب روپے تعلیمی وظائف کے 6.7 ملین مستحقین میں تقسیم کیے جائیں گے۔ یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ پرائمری سطح پرطالبات کو 2000 روپے جبکہ طلبہ کو 1500 روپے دیے جاتے ہیں۔ سیکنڈری سطح پر طلبات اور طلبہ کو بالترتیب 3000 اور 2500 روپے جبکہ ہائر سیکنڈری سطح پر 4000 اور 3500 روپے بالترتیب طلبات اور طلبہ کو ادا کئے جاتے ہیں۔وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ اور چیئرپرسن بی آئی ایس پی شازیہ مری نے اپنے پیغام میں رجسٹرڈ مستحقین پر زور دیا ہے کہ وہ ادائیگی کی رسید کے ساتھ 9000 روپے کی مکمل رقم وصول کریں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو سخت نگرانی اور چوکسی کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں ہیں۔وفاقی وزیر نے مانیٹرنگ ٹیموں کو یہ احکامات بھی جاری کئے کہ مستحقین کی رقم سے کٹوتی کی کسی بھی شکایت کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بینظیر کفالت کے مستحقین 9000 روپے کی پوری رقم وصول کریں۔اس کے علاوہ بینظیر تعلیمی وظائف کے مستحقین اپنے بچے یا بچی کا مقرر کردہ وظیفہ بھی حاصل کریں۔ وفاقی وزیر نے مستحقین پر زور دیا کہ وہ اپنی رقم گننے کے بعد رسید کا مطالبہ کریں۔






