دمشق(روزنامہ آواز ٹائمز)شام میں اس سال عید الاضحی کے حوالے سے شامیوں میں کوئی خاص جوش و خروش نہیں دیکھا جا رہا۔ جنگ کے آغاز کے بعد 13 سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود شام کے باشندوں میں عید الاضحی کی خوشیوں کے حوالے سے اس قدر بیاعتنائی نہیں دیکھی گئی جو اس سال دیکھی جا رہی ہے۔
غیرملکی میڈیا نے بتایاکہ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق 90 فیصد سے زیادہ شامی غربت کا شکار ہیں۔ شامیوں کی اوسط تنخواہ تقریبا ایک لاکھ 20 ہزار شامی پاؤنڈ ہے۔ دوسری طرف 5 افراد کے خاندان کے رہنے کی اوسط قیمت 5.6 ملین پانڈ سے زیادہ بنتی ہے۔ کم سے کم معیار زندگی کو دیکھیں تو اس کی رقم بھی 3.5 ملین شامی پانڈ بنتی ہے۔عید الاضحی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے 34 سال کے شامی نوجوان خلیل عباس نے کہا اس سال کوئی قربانی نہیں کی جائے گی۔ خلیل دو دہائیوں سے ہر سال قربانی کرتا آرہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال شام میں آمدنی کی سطح کم اور قربانی کے جانوروں کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔42 سال کے شامی شہری معین الخیر یومیہ اجرت پر کام کرتا ہے اور اس کے 4 بچے ہیں۔ وہ بھی ہر سال عید الاضحی کے موقع پر ایک مینڈھا ذبح کرتا تھا لیکن آج وہ محسوس کر رہا ہے کہ وہ اس عید پر قربانی کرنے سے قاصر ہے اور اس کا اسے بہت دکھ ہے۔ابو عاصم دمشق میں گوشت کی سب سے پرانی اور مشہور دکانوں میں سے ایک کے مالک ہیں۔ یہ سال بہت زیادہ قیمت کی وجہ سے ان کی قربانی میں دلچسپی کے لحاظ سے بدترین رہا ہے۔ انہوں نے کہا مویشیوں کی یومیہ فروخت 6 سے کم ہوکر ایک یا دو جانوروں تک آگئی ہے۔






