کوئٹہ(روزنامہ آواز ٹائمز)گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ نے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس کل سوموار سہ پہر چار بجے طلب کر لیا اجلاس اسپیکر جان محمد جمالی کے زیر صدارت منعقد ہوگا اجلاس 29جولائی تک جاری رہے گی اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ زیرے کی جانب سے توجہ دلاو نوٹس پیش کردیا جائے جس میں وزیر خزانہ کی توجہ سابق حکومت کی جانب سے پشتو،بلوچی،براہیوی اور دیگر زبانوں کی اکیڈمیز کیلئے ایک ایک کروڑ روپے سالانہ بجٹ مختص کیا تھا مگر حالیہ بجٹ میں 2023-24کے سالانہ بجٹ میں پشتون،براہیوی اور دیگر زبانوں کی اکیڈمیز کی گرانٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ ایک زبان کے اکیڈمی کے گرانٹ کو 5کروڑ روپے تک بڑھا یا گیا ہے جبکہ دیگر اکیڈمیز کے ساتھ سر اسر نا انصافی ہے حکومت اس کی وجوہات بتائیں اجلاس میں سرکاری کارروائی برائے قانون سازی،لوکل گورنمنٹ بلوچستان لوکل گورنمنٹ کا ترمیمی مسودہ قانون مصدرہ 2023پیش کرینگے اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری اور قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ ایک مذمتی قرارداد پیش کرینگے جس میں ایوان 28جون 2023کو سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم کے مرکزی مسجد کے باہر ایک مذہبی جنونی شخص کی جانب سے عید الضحی کے دن مسلمانوں کے مقدس کتاب قرآن پاک کے اوراق کو نذر آتش کرنے کی نا پاک جسارت پر شدید مذمت کرتا ہے جس کی وجہ سے تمام عالم اسلام میں شدید غم وغصہ پا یا جاتا ہے چونکہ قرآن پاک نے پوری دنیا کو محبت کا فلسفہ دیا ہے اس لئے مسلمان ہونے کے ناطے ہم تمام مذاہب عقائد اور مقدس کتابوں کا احترام رکھتے ہیں اجلاس میں محکمہ داخلہ امور اور محکمہ پی ڈی ایم اے کے حوالے سے صوبائی وزرا سوالات کے جوابات دینگے۔






