لندن(روزنامہ آواز ٹائمز)یورپی پارلیمان نے بھارت کو ریاست منی پور میں جاری نسلی فسادات پر آئینہ دکھا دیا، نسلی فسادات میں مودی سرکار کے کردار کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی گئی،قرار داد میں کہاگیا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت اور سیاسی فوائد کے لئے ہندو نواز تفریقی پالیسیاں جاری فسادات کو بڑھا رہی ہیں۔تفصیل کے مطابق گزشتہ روز یورپی پارلیمان نے منی پور میں جاری نسلی فسادات میں مودی سرکار کے کردار کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کی ہے، 5 پارلیمانی گروپوں کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد 80 فیصد یورپی پارلیمان کی نمائندگی کرتی ہے، قرارداد میں بھارتی حکومت اور بی جے پی کی جانب سے کوکی قبائل کی جاری نسل کشی کی خاموش حمایت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مودی سرکار سے اقلیتوں کو حقوق اور آزادی کو تحفظ دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا، قرارداد کے متن کے مطابق حکومتی سرپرستی میں قوم پرست بیانیہ منی پور خانہ جنگی کو مزید ہوا دے رہا ہے، اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت اور سیاسی فوائد کے لئے ہندؤ نواز تفریقی پالیسیاں جاری فسادات کو بڑھا رہی ہیں، یورپی پارلیمنٹ نے مودی سرکار سیمسلح افواج کو دیئے گئے خصوصی اختیارات کے قانون (AFSPA)کو ختم کرنے اور بلا تعطل انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا، منی پور میں گزشتہ 2ماہ سے جاری خانہ جنگی کے باعث 250سے زائد چرچ نذرآتش، 115افراد ہلاک جب کہ 4000سے زائد مقامی لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔






