بلوچستان ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ کے 2درجن سے زائد کوارڈینیٹرز اور 2ترجمانوں کی تعیناتی غیرقانونی قراردیدی

کوئٹہ(روزنامہ آواز ٹائمز)بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس جناب جسٹس محمدعامر نواز رانا پرمشتمل ڈویژنل بینچ نے ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے ترجمان بابر یوسف زئی اور26کوارڈینیٹرز کی تقرری سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشنز کو غیرقانونی قراردیتے ہوئے انہیں ذمہ داریاں نبھانے اور مراعات لینے سے روک دیاہے۔یہ حکم بینچ نے درخواست گزار عبدالصادق خلجی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر آئینی درخواست نمبر 282/2023 اور308/2023 کا تفصیلی فیصلے میں دیاہے۔آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور احمد بلوچ،سید ایاز ظہور ایڈووکیٹ محمد علی کنرانی ایڈووکیٹ،عابد علی پانیزئی ایڈوکیٹ،غلام مصطفی بزدار،عصمت اللہ مندوخیل ایڈووکیٹ،مس ایسٹر مہک ایڈووکیٹ نے درخواست گزاران وصوبائی حکومت کی جانب سے پیروی کی۔عدالت نے دونوں درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے تحریری حکم میں حکومتی کوارڈینیٹرز کی تقرری کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے انہیں خدمات کی انجام دہی سے روک دیاہے اور انہیں حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات واپس لینے کا حکم دیاہے،تحریری حکم میں کہاگیاہے کہ منتخب نمائندے اور اراکین اسمبلی پہلے سے حکومتی ترجمان اور کواڈنیشن کیلئے موجود ہیں منتخب نمائندوں کے ہوتے ہوئے کواڈنیٹرز اور ترجمانوں کی تعیناتی غیر قانونی ہے،،آئین کے آرٹیکل 139 (3) کے تحت، صوبائی حکومت اپنے کاروبار کی تقسیم اور لین دین کے لیے بھی قواعد (یعنی کاروبار کے قواعد) بنائے گی۔آئین یا رولز آف بزنس کی کوئی شق وزیراعلی بلوچستان اور حکومت کے کوآرڈینیٹر یا ترجمان کی تقرری کے لیے فراہم نہیں کرتی ہے۔تحریری حکم میں کہاگیاہے کہ رولز آف بزنس کے تحت ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشن (DGPR)کا عہدہ صوبہ بلوچستان میں دستیاب ہے اور DGPR آسانی سے حکومت کے ساتھ ساتھ وزیراعلی بلوچستان کی جانب سے بھی بیان/بول سکتا ہے۔عدالت نے کوارڈینیٹرز وترجمانوں کو دفتری رہائش،حکومت بلوچستان کی طرف سے فراہم کردہ دیگرتمام سہولیات واپس لینے کا حکم دیتے ہوئے سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے رجسٹرار ہائی کورٹ بلوچستان کو رپورٹ پیش کریں۔یاد رہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ مختلف نوٹیفکیشنز میں حکومت بلوچستان کی ترجمان کیلئے فرح عظیم شاہ اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے ترجمان کیلئے بابر یوسفزئی کی تقرری کی اس کے علاوہ 26سے زائد کوارڈینیٹرز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی جس کے خلاف درخواست گزار عبدالصادق خلجی ایڈووکیٹ نے عدالت سے رجوع کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں