اسلام آباد(روزنامہ آواز ٹائمز)وفاقی کابینہ نے ای سیفٹی اور نجی کوائف کے تحفظ کے قوانین کے مسودے کی منظوری دے دی۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق ای سیفٹی بل کا مقصد صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ اور آئی ٹی کے غیرقانونی استعمال کی روک تھام ہے۔اعلامیے کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ڈیٹا کا بلا اجازت استعمال روکنے کا فریم ورک بنے گا، بل کی منظوری سے آن لائن ہراسگی، بلیک میلنگ کو مثر طریقے سے روکا جاسکے گا۔کابینہ نے پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل کی بھی اصولی منظوری دے دی، حکومت، ادارے اور کمپنیاں صارف کے کوائف کی حفاظت یقینی بنائیں گی۔ مسودے کے مطابق صارف کی اجازت کے بغیر ڈیٹا کمپنی، فرد یا حکومتی ادارے کو نہیں دیا جاسکتا۔ اعلامیے کے مطابق اس مقصد کیلیے نیشنل کمیشن فار پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن قائم کیا جائے گا،دیوانی عدالت کی حیثیت ہوگی۔اجلاس میں بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے ترمیمی بل کے مسودے کی منظوری بھی دیدی گئی۔ ترمیم کے تحت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کو بااختیار بنایا جائے گا۔کابینہ نے قومی بھنگ پالیسی کو حتمی شکل دینے کیلئے وزارتی کمیٹی قائم کردی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف وزارتی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے، کمیٹی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔اعلامیہ کے مطابق وفاقی کابینہ نے احتساب عدالتوں کی تنظیم نو کی بھی منظوری دی، احتساب عدالتوں میں سے 7 کو بینکنگ کورٹ میں تبدیل کیا جائے گا۔سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو کی بھی منظوری دیدی گئی جبکہ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے سلیکشن کمیٹی کے ممبران کی تقرری کی منظوری دیدی گئی۔کابینہ نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے اور نکالنے کی طریقہ کار کی بھی منظوری دی، پی سی ایل اور ای سی ایل میں نام ڈالنے کی وجہ مشترکہ ہو تو نام خارج بھی ایک ساتھ ہوگا۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے کی پالیسی پر عمل کررہے ہیں، پالیسی کا مقصد بیرونی سرمایہ کاری کے منصوبوں جلدی مکمل کرنا ہے۔ وزیراعظم کی آذربائیجان سے ایل این جی معاہدے پر مصدق ملک کی کوششوں کی تعریف کی کہا کہ معاہدہ آذربائیجان اور پاکستان کے تجارتی تعلقات کے فروغ میں اہم قدم ہے، معاہدہ پاکستان کی توانائی سلامتی کے لیے بھی اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔






