توشہ خانہ کیس،عدالت نے عمران خان کی جانب سے بیان ریکارڈ کرانے کی کمٹمنٹ مانگ لی

اسلام آ باد (روزنامہ آواز ٹائمز) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج نے توشہ خانہ کیس میں 31جولائی کو عمران خان کی جانب سے بیان ریکارڈ کرانے کی کمٹمنٹ مانگ لی۔ وکیل نے اپنے موکل سے ہدایات لینے کیلئے وقت طلب کرلیا۔ عدالت نے کہا کہ آپ سینئر وکیل ہیں، اتنی بھی کمٹمنٹ نہیں کرسکتے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں شروع ہوگئی، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی گئی۔ جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ سیکیورٹی انتظامات کرنا تو اداروں کا کام ہے، اب تک توشہ خانہ کیس کی 37 سماعتیں ہوچکیں، چیئرمین پی ٹی آئی اب تک صرف 3 بار پیش ہوئے، ایک بار ملزم گرفتار تھا، دوسری بار عدالت سے باہر حاضری لگی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا کا کام صرف استثنی کی درخواستیں دینا ہے۔ عمران خان کے وکیل گوہر علی خان نے کہا کہ آج آخری بار درخواست استثنیٰ دائر کی، پیر تک سماعت ملتوی کردیں، ذاتی حیثیت میں درخواست کررہا ہوں، ہمیں کل کا تفصیلی فیصلہ بھی ابھی تک نہیں ملا، چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ میٹنگ بھی ہے۔ جج نے استفسار کیا کہ کیا آپ کی کمٹمنٹ ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی پیر کو پیش ہوں گے؟۔ جس پر گوہر علی خان نے کہا کہ میں وکیل ہوں، کوئی کمٹمنٹ نہیں دے سکتا۔ جج ہمایوں دلاور نے پوچھا کہ کیا آپ کو چیئرمین پی ٹی آئی پر اعتبار نہیں؟، جس پر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ہم چیئرمین پی ٹی آئی کے احکامات پر چلتے ہیں۔ جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو ہر پیشی پر عدالت پیش ہونا ہے، پیر تک سماعت ملتوی کردیتا ہوں لیکن پیشی کی کمٹمنٹ کیوں نہیں دے رہے؟، اتنی بھی کمٹمنٹ نہیں کرسکتے کہ 31جولائی کو بیان ریکارڈ کرائیں گے؟، پیر کو پیشی کی کمٹمنٹ دیں تو ٹھیک ہے، آپ ملزم کے سینئر وکیل ہیں۔ گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ کبھی ذاتی حیثیت میں سماعت ملتوی کرنے کی استدعا نہیں کی، آج پہلی بار کررہا ہوں، ہم نے 342کا بیان تو ریکارڈ کروانا ہے، پیر کو کروا لیں گے، آپ کمٹمنٹ چاہتے ہیں تو میں موکل سے احکامات لے لیتا ہوں۔ جج نے مزید کہا کہ آخری بار جب چیئرمین پی ٹی آئی پیش ہوئے تو اچھی یادیں چھوڑ کرگئے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق فوجداری کیس میں ملزم کی حاضری لازم ہے، عدالت مطمئن ہو تب ہی حاضری سے استثنی دیا جاسکتا ہے، 37سماعتوں میں سے کتنی بار ملزم نے حاضری کو ترجیح دی؟ 31جولائی کو چیئرمین پی ٹی آئی نے مختلف عدالتوں میں پیش ہونا ہے، آج کی درخواست میں نہیں لکھا کہ سیشن عدالت میں پیش ہوں گے، ایف ایٹ میں تو سکیورٹی خدشات تھے ہی اب نئی کچہری میں بھی ہوگئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے وڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی درخواست دی تھی، ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ 342 کا بیان عدالت میں ذاتی حیثیت میں ہی لیا جائے گا، درخواست میں کہیں نہیں لکھا کہ ملزم پیر کو عدالت پیش ہوگا۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے عدالت میں سماعت روکنے کی درخواست دائر کی گئی، جس میں گواہان کے بیانات اور ثبوتوں کے پیش ہونے کے فیصلے تک سماعت روکنے کی استدعا کی گئی۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گواہان کے بیانات اور ثبوتوں کے خلاف درخواست جرح سے قبل دائر کرنا بنتی ہے، جرح ہوچکی، عدالت نے فیصلہ انہی بیانات اور ثبوتوں پر کرنا ہے، ایسی درخواست کا جرح کے بعد آنا صرف تاخیری حربہ ہے۔ امجد پرویز کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی وکلا نے گواہان پر کئی گھنٹوں جرح کی، اس وقت پی ٹی آئی وکلا نے کہا تھا جرح کرنا ہمارا حق ہے، ثبوتوں، بیانات اور جرح ایک بار ہی ہوتی ہے۔ وکیل گوہر علی خان نے کہا کہ سیشن عدالت میں ٹرائل تاخیر کا شکار نہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کا رویہ سیشن عدالت کی جانب درست ہے، اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے فیصلہ آنے تک انتظار کرنا بہتر ہوگا، چیئرمین پی ٹی آئی پیر کو یہاں آجائیں تو سب آسان ہوجائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں