کوئٹہ(روزنامہ آواز آٹائمز)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ نگراں وزیر اعظم کی تعیناتی سے متعلق امید تھی کہ مشاورت سے کیئرٹیکروزیراعظم لایا جائے گا مگر افسوس کہ یہاں انڈر ٹیکر نامزد کیاگیا ہے اب دیکھنا یہ ہوگا کہ یہاں کس کس کی قبریں بنے گی نگراں وزیر اعظم کی چھوٹے صوبے سے نامزدگی کو بلوچستا ن کی احساس محرومی کے خاتمے سے جوڑنا ایسے ہی ہے جیسے میرتقی میر کا وہ شعر ”میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں“ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی پہلا خط نہیں جو ہم نے میاں محمد نواز شریف کو لکھا ہے سال 2022میں بھی میں نے میاں محمد نواز شریف کو ایک خطا لکھا تھا جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ پی ڈی ایم جس مقصد کے لئے بنائی گئی تھی آج اس کی راہ تبدیل ہوچکی ہے جس پر میاں محمد نواز شریف نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف سے بات کرینگے اور بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے ترجیحی اقدامات اٹھائیں گے ہم نے پی ڈی ایم سے ویساہی اتحاد کیا تھا جیسا کے ماضی میں پی ٹی آئی حکومت سے کیا گیا تھا کیونکہ ہماری سیاسی جدوجہد کا محور بلوچستان کے مسائل ہے اور ان کا حل ہمارے لئے سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہے مگر افسوس کہ جب بھی ہم کوئٹہ کی بات کرتے تھے تو انہیں لاہور سنائی دیتا تھا اگر ہم گوادر کی بات کرے تو وہ فیصل آباد سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد نگراں وزیر اعظم کی نامزد گی کا فیصلہ کیا جائے گا مگر جس طرح نگراں وزیر عظم کی نامزگی کا فیصلہ کیا گیا ہے وہ امید کی تابوت میں آخری کیل ثابت ہواہے جس باپ پارٹی کی پہچان ختم ہونے کو جارہی تھی اسے واپس لاکر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی ہے ہم نے مشاورت سے کیئر ٹیکر وزیراعظم لانے کی بات کی تھی مگر یہاں انڈر ٹیکر لایا گیا ہے اب دیکھنا یہ ہوگا کہ یہ انڈر ٹیکر کس کس کی قبریں بنا تا ہے مرکز کے بے شمار احسانات میں سے نگراں وزیر اعظم کی نامزد گی کا یہ فیصلہ بھی ایک بڑا احسان ہے انہوں نے کہا کہ جس طرح اس نامزدگی کو بلوچستان کی احساس محرومی کے خاتمے جڑا جارہا ہے اس پر میر کا شعر ہی کہا جاسکتا ہے کہ ”میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں“ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نگراں وزیر اعلیٰ کے لئے جمعیت علماء اسلام سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے مید کرتے ہیں کہ متحدہ اپوزیشن کی مشاورت سے ایک بہتر فیصلہ کیا جائے گا تاکہ بلوچستان میں سیاسی ماحول کو سبعو تاش کئے بغیر پر امن اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جاسکے۔






