اسلام آباد(روزنامہ آواز ٹائمز)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ سائفر کی بنیاد پر ایک ڈرامہ اور ڈھونگ رچایا گیا،اعظم خان کا بیان اس کی تصدیق کرتا ہے، ا س کھیل میں چیئرمین پی ٹی آئی او ر شاہ محمود قریشی سر فہرست ہیں،باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے ڈھونگ اور ڈرامہ رچایاگیا،یہ ڈرامہ اور ڈھونگ پاکستان کے اداروں کے خلاف تھا،سیاسی اور ذاتی مفادات کیلئے سائفر کا کھیل کھیلاگیا،ملکی مفادات کے ساتھ کھیلنے والے کھلاڑیوں نے خود ہی اعتراف جرم کرلیا،چیئرمین پی ٹی آئی کوسیکریٹ ڈاکومنٹ پبلک کرنے سے منع کیا،ایک شخص ذاتی مفادات کیلئے یہ سب کچھ کر سکتا ہے تو وہ 9مئی جیسا واقعہ بھی کرسکتا ہے،کوئی شک نہیں کہ یہ ٹولہ ملکی مفاد کے خلاف سازش کر رہا تھا،یہ بیان ان ثبوتوں کی تائید کر تاہے،ہماری کوشش ہے کہ تحقیقات کا عمل آگے بڑھائیں،یہ ریاست کے مفاد کامعاملہ ہے، اپنی ذاتی مفاد کیلئے قومی مفاد کو داؤ لگانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا،اس جرم کی سزا اسے ہر قیمت پر ملنی چاہیے۔بدھ کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا بیان چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف فرد جرم ہے،اعظم خان کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل میر جعفر کو ن تھا،بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ کون تھا جس نے ذاتی مفادات کیلئے ملک کے خلاف سازش کی،ملک کے مفادات کو مجروح کرتے ہوئے معیشت کو برباد کیا گیا،سیاسی اور ذاتی مفادات کیلئے سائفر کا کھیل کھیلاگیا،ملکی مفادات کے ساتھ کھیلنے والے کھلاڑیوں نے خود ہی اعتراف جرم کرلیا،سیاسی اور ذاتی مفادات کیلئے خارجہ تعلقات کو نقصان پہنچایا گیا۔انہوں نے کہا کہ سائفر کی بنیاد پر ایک ڈرامہ اور ڈھونگ رچایا گیا،اس جرم کی سزا اسے ہر قیمت پر ملنی چاہیے،اعظم خان کا بیان اس کی تصدیق کرتا ہے، اس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اس میں پوری طرح شریک ہیں،باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے ڈھونگ اور ڈرامہ رچایاگیا،یہ ڈرامہ اور ڈھونگ پاکستان کے اداروں کے خلاف تھا،اعظم خان نے یہ بھی بتایاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کو منع کیا کہ ایسا نہ کریں،انہیں بتایا گیا کہ یہ سیکریٹ ڈاکومنٹ ہے جو پبلک کرناجرم ہے،اس شخص نے ذاتی مفاد کی خاطر یہ سب کچھ کیا، اعظم خان نے بتایا کہ سائفر چیئرمین پی ٹی آئی کو دے دیا،اگلے روز چیئرمین پی ٹی آئی سے سائفر سے متعلق پوچھا کہ کہا گیا کہ گم ہوگیا ہے،جب پوچھا گیا کہ جلسے میں سائفر لہرایا تھا تو عمران خان کہتے ہیں کہ وہ تو کاغذ تھا،امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف اسی جرم پر پراسیکیوشن ہوئی،اعظم خان نے بتایا کہ اس وقت سیکرٹری خارجہ بھی شامل تھے،ایک شخص ذاتی مفادات کیلئے یہ سب کچھ کر سکتا ہے تو وہ 9مئی جیسا واقعہ بھی کرسکتا ہے،کوئی شک نہیں کہ یہ ٹولہ ملکی مفاد کے خلاف سازش کر رہا تھا،یہ ملک دشمنی کارروائیوں میں ملوث تھا اس کے تانے بانے ملک سے باہر تھے،یہ ایسی سازش میں ملوث تھے جس کی جڑیں پاکستان کے اندر اور باہر موجود تھیں،اس جتھے کو قانون و انصاف کے کٹہرے میں لا کر سزا دینا ضروری ہے،اعظم خان نے بیان میں وضاحت کر دی کہ وہ کہا ں تھا، اعظم خان کہتے ہیں کہ وہ ایک دوست کے گھر میں تھے،اعظم خان نے بتایا کہ سوچ سمجھ کر سازش بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا،اعظم خان کا کہنا ہے کہ میں اس عمل میں شامل تھا جو کہ نہیں ہونا چاہیے تھا،اعظم خان نے اپنے بیان میں بتایا کہ ضمیر کے مطابق سب کچھ ایکسپوز کیا ہے۔صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مجھے تو کسی پابندی کا علم نہیں، ناہی کسی نے شیئر کیا کہ کسی کانام لینے پر پابندی ہے،ان کا بیان تمام چینلز پر آرہا ہے، مجھ اور آپ تک بھی پہنچا ہے،کسی آدمی کے بیان دینے سے کوئی بات ثابت یا بگڑ نہیں جاتی،ان کا بیان صرف بیان ہی نہیں اس سے متعلق بے شمار ثبوت سب کے علم میں ہیں،یہ بیان ان ثبوتوں کی تائید کر تاہے،ہماری کوشش ہے کہ تحقیقات کا عمل آگے بڑھائیں،یہ ریاست کے مفاد کامعاملہ ہے، یہ جرم ہے،اس سے قبل بھی یہ رپورٹ ہوا ہے،ریاست کی مدعیت میں یہ مقدمہ پراسیکیوشن کے تحت کیا جائے گا،ان لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا جنہوں نے اپنی ذاتی مفاد کیلئے قومی مفاد کو داؤ پر لگایا،سائفر کا معاملہ خصوصی عدالت میں ہی بھیجا جائے گا،اعظم خان نے دفعہ 164کے تحت مجسٹریٹ کو بیان دیا،اعظم خان نے دفعہ 161کے تحت ایف آئی اے میں بھی بیان ریکارڈ کروایا ہے،اعظم خان جہاں بھی جانا چاہیں یہ ان کی مرضی ہے،میر ی معلومات کے مطابق وہ کل سے اپنے گھر میں موجود ہیں،اس کھیل میں اعظم خان شامل تھے نہ سیکرٹری خارجہ،ا س کھیل میں چیئرمین پی ٹی آئی او ر شاہ محمود قریشی سر فہرست ہیں،الیکشن کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن نے کرنا ہے،الیکشن کمیشن اپنی سہولت کے مطابق شیڈول دے گا،اسمبلی میں وزیراعظم سے مشاورت کررہے ہیں۔






