لاہور(روزنامہ آواز ٹائمز)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک میں انتخابات آئینی مدت پوری ہونے کے بعد ہوں گے، انتخابات کروانا کسی کے چاہنے یا نہ چاہنے کی بات نہیں، آئینی مدت پوری ہونے کے بعد اکتوبر یا نومبر میں انتخابات ہوں گے،نواز شریف پاکستان ضرور واپس آئیں گے، ن لیگ اپنے پلیٹ فارم سے آئندہ انتخابات لڑے گی
ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں اکیڈمک ریسرچ بلاک کی افتتاحی تقریب خطاب میں کیا آئین واضح ہے انتخابات ہوں گے، جو نگران حکومت آئے گی اس کا مینڈیٹ آئین کے مطابق دئیے گئے وقت میں انتخابات کروانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)نے اپنے سابقہ دور اقتدار میں ملک میں 11ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبے لگائے، مسلم لیگ (ن)کے گزشتہ دور میں کراچی کی روشنیاں بحال ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم 75 سال میں پیچھے رہ گئے، اس لئے ترقی نہ کر سکے کہ سیاسی عدم استحکام اور نفرت و انتہا پسندی کا شکار رہے، ہمارا مسئلہ سیاسی عدم استحکام ہے، ہمارے ہاں پالیسیوں کا تسلسل نہیں رہا، دیگر ممالک ہم سے آگے نکل گئے۔ بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملائیشیا اس کی مثال ہیں
انہوں نے کہا کہ قوم اور نوجوانوں سے اپیل ہے کہ اختلاف رائے ضرور رکھیں لیکن نفرت نہ پالیں، اختلاف رائے کو ہم نے نفرت میں بدل دیا ہے، معاشرے کو پولرائزڈ کر دیا ہے جبکہ اسے استحکام کی اشد ضرورت ہے، معاشرے کو ڈی پولرائز کرنا ہو گا۔ یہاں استحکام، برداشت، صبر اور ترقی کا سبق پروان چڑھانا ہو گا اور یہ سوچنا ہو گا کہ نفرت سے معاشرے نہیں چل سکتے، ہمیں ایک دوسرے پر تنقید میں احترام سامنے رکھنا چاہیئے، ہمیں اس نوجوان نسل کو اچھا مستقبل دینے کی طرف جانا ہو گا انہوں نے نے کہاکہ بطور ایٹمی ملک کوئی ہمیں غلام نہیں بنا سکتا، اگر ہمارے نوجوانوں کو غلامی کا درس دیا جائے گا تو ان کا کیا مستقبل ہوگا۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ اس وقت ہر کوئی تقسیم ہے جو شکست کی وجہ ہے،اگر ہم متحد ہوگئے تو پاکستان کامیاب ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ معاشی ماہرین، تاجروں، صنعت کاروں سے اپیل ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی طرف آئیں، ڈالر آئیں گے تو ملک چلے گا، ہم نے ترقی کو راستے میں روکا جبکہ بنگلہ دیش اور بھارت نے ایسا نہیں کیا،ہمیں خود کو معاشی طور پر کھڑا کرنا ہے






