کوئٹہ (روزنامہ آواز ٹائمز) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میںجہاں سہولیات وقتافوقتا ناپید ہوتے جارہے ہیںوہاںآئے روز مسائل میںمسلسل اضافہ بھی ہوتا جارہا ہے، بارش ہونے کے بعد شہر کے تمام گلی، کوچے غرضہر شاہراہ ندے نالوںکی طرحبہتا رہتا ہے جو نظام زندگی تباہ کر رکھ دیتی ہے اور معاملات زندگی ٹپ ہوکر رہ جاتی ہے .
دوسری طرف ان تمام مسائل کی ذمہ دار لینے کیلئے کوئی تیار نہیں،صوبائی حکومت کے سالانہ اربوںروپے ترقیاتی بجٹ ہونے کے باوجود ٹھس سے مس نہیںہورہی اورنہ اس سلسلے میں کوئی راست اقدام اٹھانے کی کوشش کرتی ہے.
معمولی بارش ہونے کے بعد شہریوںکے آمد ورفت مفلوج ہوکر رہ جاتی ہے ، نہ صرف کاروباری حضرات بلکہ نمازی حضرات اور نوکری سے وابسطہ افراد ، طلبا وطالبات غرضہر مکتبہ فکر کے لوگوںکو شدید ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے.
نکاسی آب بارش کے پانی کیلئے تودور کے بات جمعہ اور اتوار کے دن بھی شہر کے اکثرسڑکیںاور گلیاںندی نالوںکی طرحبہہ ہورہے ہوتے ہیںکیونکہ جمعہ اور اتوار کے دنوںمیںباقی ہفتے کے دنوںسے پانی کا استعمال زیادہ ہوتا ہے.
متعلقہ محکموںکے ذمہ داروںاور ضلعی ذمہ داروںکو اس سلسلے میںمناسب پلاننگ ، جدید ٹیکنالوجی اور مشترکہ اقدامات اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے.






