کوئٹہ(روزنامہ آواز ٹائمز/ماجد رند) جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے عہدے داروں نے پریس پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے جامعہ بلوچستان کو درپیش مالی بحران کی وجہ سے جامعہ کے اساتذہ،افسران اور ملازمین گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں اپنے مطالبات کے لئے گزشتہ کئی ماہ سے احتجاج کررہے ہیں جامعہ بلوچستان سمیت سب کیمپسز میں تمام سروسز،کلاسز،ایڈمنسٹریشن،امتحانات اور ٹرانسپورٹ ایک ماہ سے بند ہے جامعہ کی انتظامیہ نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج پر صوبائی حکومت کو ایک ارب گیا کروڑ روپے کی بیل آوٹ پیکج کی ادائیگی کے لئے مراسلہ لکھا تاکہ ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جاسکیں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی بدولت صوبائی اسمبلی بلوچستان نے جامعہ کے مالی بحران کے مستقل حل کے لئےمتعلقہ قرار داد پاس کی گزشتہ مہینے صوبائی وزیر خزانہ زمرک اچکزئی کے زیرے صدارتصوبائی فنانس کمیشن کا اجلاس ہواجامعہ بلوچستان کے ملازمین کو عید سے قبل تین مہینوں کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے 38 کروڑ روپے کے اجرا کی سفارش کی گئی لیکن سیکرٹری ہائر ایجو کیشن حافظ عبدالماجدنے اپنی پرانی تعلیم دشمنی اور صوبے کے اس کی قدیم مادر علمی کو بند کرنے کی روش کے تحت اجلاس کے دوران بائیکارٹ کیااگر تنخواہیں ادا نہیں کی گئی تو بلوچستان بھر کے یونیورسٹیز کالجز اور اسکولز تک احتجاج کا دائرہ وسیع کرینگے۔






