جبری گمشدگی کے واقعات، حقیقت یا افسانہ

پاکستان میں جبری گمشدگی اور لاپتہ افراد جیسے انتہائی حساس اور اہم معاملے کی بازگشت کئی سالوں سے مختلف قومی ایوانوں میں گونج رہی ہے اور اس کے مضمرات ملک کے سیاسی، معاشرتی اور سیکورٹی اُفق پر شدت سے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
بظاہر اس طرح کے واقعات کم و بیش دنیا کے ہر ملک میں وقوع پذیر ہوتے ہیں مگر پاکستان میں چند مخصوص عناصر کی طرف سے ایسے واقعات کو سنسنی خیز رنگ دے کر ذاتی تشہیر کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور یہ تاثر دیا گیا کہ گویا پاکستان میں لاپتہ افراد کی تعداددنیا میں سب سے زیادہ ہے جو کہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ کے مطابق2023ء تک امریکہ میں لاپتہ افراد کی تعداد بائیس ہزار سات سو کے قریب ہے جبکہ 2018ء سے 2022ء کے ایک سروے کے مطابق بھار ت میں تین لاکھ پچاس ہزار لوگ لاپتہ ہوئے جن میں میں سے 10,000کے قریب کیسس صرف مقبوضہ میں رپورٹ ہوئے۔ یہ تعداد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھی۔
بدقسمتی سے پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی وطن عزیز کے خلاف دشمن کی جانب سے منظم انداز میں سازشوں کے بیج بونے کا عمل شروع کر دیا گیا تھا جس کا ہدف ملک کے قومی سلامتی کے ادارے اور مقصدعوام اور سیکورٹی اداروں کے مابین اعتماد کا فقدان پیدا کر کے خلیج پیدا کرنا اور ملک و ملت کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا تھا۔
پاکستان میں جبری گمشدگی کے واقعات اور لاپتہ افراد کے حوالے سے چلایاجانے والا وائٹ پراپیگنڈہ بھی دراصل دشمن کی انہی سازشوں کا تسلسل ہے جس کے تانے بانے نا صرف کچھ پڑوسی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں سے ملتے ہیں بلکہ اندرون ملک صحافت و سیاست کا لبادہ اوڑھے کچھ فرضی روشن خیالوں، موم بتی مافیا اور نام نہاد صحافیوں نے بھی غیر ملکی عناصر کے ‘‘ایجنٹس آف انفلوئنس’’ ہونے کا کردار ادا کرتے ہوئے غیر مصدقہ اور نامکمل معلومات کو بنیاد بناکے ملکی سا لمیت اور اداروں کے تشخص کو داؤ پر لگایا۔
بلوچستان میں لاپتہ افراد کے حوالے سے اداروں کے خلاف گمراہ کن مہم میں بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان نیشنل آرمی جیسی دشمن ایجنسیوں کی حمایت یافتہ تنظیمیں بھی پیش پیش رہیں جن کا مقصداپنے گھناؤنے عزائم پر پردہ ڈال کر سیکورٹی فورسز کو بدنام کرنا تھا۔
مثال کے طور پر اس سال کے شروع میں سیکورٹی فورسز نے کوئٹہ سے ایک محل بلوچ نامی خاتون خودکش بمبار کو خوش کش جیکٹ سمیت گرفتار کیا۔ بعد ازاں تفتیش سے یہ حقیقت بھی عیاں ہو گئی کہ نہ صرف محل بلوچ بی ایل ایف کی سرکردہ کارکن تھی بلکہ اس کے خاوند سمیت کئی دیگر رشتہ دار بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی این ایف جیسی دہشت گردتنظیموں سے وابستہ تھے اور حراست میں لئے جانے کے بعد بی ایل ایف سوشل میڈیا پر محل بلوچ کی تصویر لگا کر اسے لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل کر کے سیکورٹی فورسز کے خلاف مسلسل مذموم پراپیگنڈہ کرتی رہی۔اس کے علاوہ دیگر کئی دہشت گردوں کو جو سیکورٹی فورسز کے خلاف مختلف حملوں میں ملوث تھے ان کو بھی لاپتہ افراد ظاہر کر کے پراپیگنڈہ مہم چلائی گئی۔
دوسری جانب ریاست پاکستان عوام کے جان و مال کی حفاظت کی آئینی ذمہ داری سے بخوبی آگاہ رہی اور اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دیتے ہوئے جبری گمشدگی کے واقعات کے حوالے سے ایک کمیشن تشکیل دیا جس کی حال ہی میں سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق اب تک 9294کیسز کا اندراج ہوا(جس میں اکثریت جھوٹے دعوؤں پر مبنی تھی)۔جن میں سے 7131کیسز کو نمٹا دیا گیا۔ 3500افراد گھروں کو واپس پہنچ گئے جبکہ بقایا تقریباً2000کیسز پر تحقیقات جاری ہیں اور قومی امکان ظاہر کیاجا رہا ہے کہ ان 2000کیسز میں اکثریت ان لوگوں کی ہو سکتی ہے جو رضا کارانہ طور پر ملک چھوڑ گئے ۔ سیکورٹی فورسز نے اب تک1500افراد کو تحویل میں لینے کی تصدیق کی ہے جن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی گئی اور ان کو ان کے اہل خانہ تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔
یہاں جبری گمشدہ اور لاپتہ افراد کے فرق کا تعین بھی انتہائی ضروری ہے۔ جبری گمشدہ افراد سے مراد صرف وہ لوگ ہیں جن کو مبینہ طور پر ریاستی اداروں نے ان کی گرفتاری ظاہر کیے بغیر اپنی تحویل میں رکھا ہوا جبکہ لاپتہ افراد میں ان لوگوں کا شمار ہو گا جو یا تو رضاکارانہ طور پر گھر سے چلے گئے۔ افغان جہاد کا حصہ بن گئے، تارکین وطن یا کسی حادثے کا شکار ہوئے جیسا کہ فلاحی ادارے ایدھی کے پاس پینتیس ہزار لاوارث اور ناقابل شناخت لاشیں موجود ہیں۔
بحیثیت قو م یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم زمینی حقائق کی بنیاد پر اپنی سرزمینی کے محافظ اداروں کے خلا ف ہر طرح کے پراپیگنڈے کا بھرپور جواب دیں اور ان پر اعتماد رکھیں کہ وہ آئین میں سونپی گئی وطن عزیز کے دفاع کی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنے سے قطع گریز نہیں کریں گے اور یہ کہ عوام ملکی سا لمیت کی خاطر اٹھائے گئے ہر قدم میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔

تحریر: شاہد فاروق عباسی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں