طلباوطالبات کو حصول تعلیم کے لئے وسائل کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے،وزیراعظم

اسلام آباد(روزنامہ آواز ٹائمز) وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ تعلیم کے فروغ سے ہی ترقی ممکن ہے، طلباوطالبات کو حصول تعلیم کے لئے وسائل کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے، ہمسائیہ ممالک ترقی میں ہم سے آگے نکل گئے، ہم پیچھے رہ گئے ہیں، اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر کے رہیں گے،آئی ایم ایف سے قرضے کا حصول لمحہ فخریہ نہیں لمحہ فکریہ ہے، چین اور سعودی عرب نے مشکل میں ہمارا ہاتھ تھاما ہے، متحدہ عرب امارات سے ایک ارب ڈالر ایک دو روز میں آجائیں گے، سیاستدان، جج، جرنیل، ڈاکٹر اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین ملک کی تقدیر بدلنے کے لئے آگے آئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ آج میرے لئے انتہائی خوشی کادن ہے۔ وہ شعبہ جس کے ذریعے دنیانے ترقی کی ہے اسی کے لئے یہاں ہم یہاں موجود ہیں۔ 2008 میں پنجاب سے ہم نے اس سفر کا آغاز کیاتھا۔ تعلیم کے ذریعے ہی دنیانے ترقی کی ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کے مشورے پر 2008 میں انڈوومنٹ فنڈ قائم کیا تھا اور اس وقت 2 ارب روپے مختص کئے تھے اور اس سے 4 لاکھ سے زائد انتہائی قابل، محنتی اور ذہین طلبا وطالبات کو تعلیمی و ظائف دیئے گئے تھے جو بعد میں ڈاکٹرز، انجینئرز اور دیگر شعبوں میں انہوں نے کارہائے نمایاں سر انجام دیئے۔ ان وظائف سے ہزاروں غریب طلبا نے اپنی تعلیم مکمل کی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے قوم کے کروڑوں بچوں اور بچیوں پر اپنے مالی وسائل خرچ نہ کئے تو یہ سفر ادھورا رہے گا۔ رواں سال 14 ارب روپے انڈوومنٹ فنڈ کے لئے مختص کئے گئے ہیں جو اگرچہ کم ہیں لیکن ہماری مالی مشکلات بہت زیادہ ہیں۔ ہمیشہ تعلیمی وظائف بڑھانے کی کوشش کی۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ رواں سال میں مختص 3 ارب روپے غریب طلبا وطالبات کو دیئے جائیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ رقم اگلے 10 سالوں میں 14 ارب سے بڑھ کر 40 ارب تک پہنچ جائے تاکہ ہمارے طلبا و طالبات اپنی تعلیم کے سلسلہ کو مکمل کر سکیں گے۔اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو معدنی اور دیگر قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ مشکل دور بہت جلد گزر جائے گا اور پاکستان ایک مستحکم ملک بنے گا۔ پاکستان ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ پر ملک کے طلبا کا حق ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں لاکھوں ایسی بچیاں ہیں جن کے پاس وسائل نہیں ہیں لیکن وہ ڈاکٹر، انجینئر بن کر اپنے خاندان اور ملک کانام روشن کرنے کا عزم رکھتی ہیں۔ جو علاقے ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں ان پر توجہ دی جانی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں